کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اہم وزرا، اراکینِ اسمبلی اور مرکزی رہنماؤں کی سکیورٹی اچانک واپس لے لیے جانے کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ پارٹی قیادت نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت اور وجوہات بتانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن شخصیات کی سکیورٹی واپس لی گئی ہے ان میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنما فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔
ایم کیو ایم کے وزرا اور اراکین اسمبلی نے سکیورٹی ہٹائے جانے کو اچانک اور غیر متوقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نہ تو اس فیصلے سے قبل آگاہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی باضابطہ وجہ بتائی گئی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی واپس بلانے کے فیصلے نے رہنماؤں اور ان کے اہلِ خانہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایم کیو ایم کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ممکن ہے سکیورٹی واپس لینے کی وجہ سانحہ گل پلازہ پر پارٹی کی جانب سے کی جانے والی تنقید ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عوامی مفاد کے معاملات پر سوال اٹھاتی رہے گی اور کسی دباؤ کے تحت خاموش نہیں ہوگی۔
متحدہ رہنما نے واضح کیا کہ سانحہ گل پلازہ جیسے واقعات پر آواز اٹھانا ان کا آئینی اور سیاسی حق ہے، اور وہ مستقبل میں بھی اس معاملے پر سوالات اٹھاتے رہیں گے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر پارٹی قیادت نے ہنگامی مشاورت مکمل کر لی ہے اور سکیورٹی واپس لیے جانے کے معاملے پر جلد ہنگامی پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں اس اقدام پر اپنا باضابطہ مؤقف پیش کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لینا ایک حساس معاملہ ہے، جس کے سیاسی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال اس فیصلے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔