پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں بنیادی انسانی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ حال ہی میں انہیں خفیہ طور پر اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال منتقل کر کے آنکھ کی سرجری کی گئی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی حلقے مسلسل پانچ دن تک حقائق چھپاتے اور غلط بیانی کرتے رہے۔ ان کے مطابق جب حکومت نے بالآخر اس بات کو تسلیم کیا تو پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم اور ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر خرم اڈیالہ جیل آئے تھے۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق بعد ازاں بانی پی ٹی آئی کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی آنکھ کی سرجری کی گئی، تاہم اس تمام عمل سے عمران خان کے اہلِ خانہ کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ خاندان کو یہ تک نہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو کس وجہ سے جیل سے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جو قیدیوں کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے باہر تقریباً 200 منتخب پارلیمنٹیرینز موجود ہیں۔ ان کے مطابق وہ اور سینیٹر لطیف کھوسہ کچھ دیر قبل چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے لیے گئے، تاہم چیف جسٹس اپنے چیمبر میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان کی ہدایت پر رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی گئی، جو خود بھی سیشن جج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹرار اور اٹارنی جنرل کو عمران خان کی صحت، جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی اور قانونی معاملات سے متعلق تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو اس حوالے سے اب تک 16 درخواستیں دی جا چکی ہیں، لیکن تاحال کسی درخواست پر کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔
سلمان اکرم راجا نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو آئین کے تحت حاصل بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں اور ان کی صحت سے متعلق معاملات میں شفافیت اختیار کی جائے، تاکہ کسی بھی ابہام یا خدشات کا خاتمہ ہو سکے۔