امریکا نے حملہ کیا تو آگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل جائے گی، ایرانی سپریم لیڈر کی واشنگٹن کو سخت وارننگ

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ کیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کسی دباؤ یا دھمکی سے مرعوب ہونے والی نہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مسلسل سخت اور دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے ہیں۔

جنگی جہازوں کی دھمکیاں، ایران کا دوٹوک جواب

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بار بار جنگی جہازوں اور فوجی طاقت کا ذکر کر رہے ہیں، تاہم ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا:
“ٹرمپ مسلسل کہتے ہیں کہ وہ جہاز لے آئے ہیں، لیکن ایرانی قوم ان باتوں سے نہ ڈرے گی اور نہ ہی ان دھمکیوں سے مرعوب ہوگی۔”

ایران جنگ کا آغاز نہیں چاہتا، مگر جواب ضرور دے گا

سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ ایران کسی ملک کے خلاف جارحیت کا آغاز نہیں کرنا چاہتا، تاہم اگر ایران یا اس کے عوام کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا:
“ہم کسی ملک پر حملہ شروع نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے خواہاں ہیں، لیکن اگر کوئی ایرانی قوم پر حملہ کرے یا اسے ہراساں کرے گا تو ایرانی قوم اسے سخت جواب دے گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ

واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت خطے میں:
• 6 جدید ڈسٹرائر
• ایک طیارہ بردار بحری جہاز
• اور 3 لیٹورل کامبیٹ شپ
موجود ہیں، جو خطے کی کشیدہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

بڑھتی کشیدگی، عالمی تشویش

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا بیان امریکا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ایران پر دباؤ یا فوجی کارروائی کے نتائج خطے کے امن کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

خطے اور دنیا کی نظریں اب اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا سفارتی راستہ اختیار کیا جاتا ہے یا حالات کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھتے ہیں۔

Related posts

خیبر کے علاقے باڑہ میں فائرنگ سے قتل کیے گئے چار افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع

بھاٹی گیٹ واقعہ: وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس، سعدیہ کے شوہر پر مبینہ تشدد کی تحقیقات کا آغاز

حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ: ڈاکٹر عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے مقرر، پنجاب پولیس میں اہم تقرریاں