لاہور/پشاور: بسنت کے قریب آتے ہی پتنگ بازی سے وابستہ کاروبار میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کائٹ ایسوسی ایشن کے مطابق لاہور میں گزشتہ تین روز کے دوران 54 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ڈور اور گڈی فروخت کی جا چکی ہے، جس سے شہر کی پتنگ مارکیٹس میں کاروباری سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
لاہور کی مارکیٹس میں ریکارڈ فروخت
کائٹ ایسوسی ایشن کے مطابق منگل کے روز ہی لاہور کی مختلف مارکیٹس میں پانچ لاکھ سے زائد پتنگیں فروخت ہوئیں۔ اندرونِ شہر، شاہ عالم مارکیٹ، اکبری منڈی اور دیگر معروف بازاروں میں خریداروں کا رش دن بھر برقرار رہا۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بسنت کے قریب آتے ہی خریداروں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ خصوصی ڈیزائن اور رنگوں والی پتنگوں کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق بسنت کے دنوں میں ڈور، گڈی، چرخیاں اور دیگر متعلقہ سامان کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے جس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
پشاور کا یکہ توت بازار بھی سرگرم
دوسری جانب پشاور کا تاریخی یکہ توت بازار بھی پتنگ سازی کی سرگرمیوں سے گونج اٹھا ہے۔ یہاں درجنوں دکانوں اور ورکشاپس میں کاریگر دن رات پتنگیں اور گڈیاں تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ زیادہ تر کاریگر پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی مہارت اور تجربے کی بدولت معیاری اور خوبصورت پتنگیں کم قیمت پر تیار کر رہے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق تیار ہونے والی پتنگیں بڑی تعداد میں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کو بھجوائی جا رہی ہیں تاکہ بسنت کے دوران طلب پوری کی جا سکے۔
ورکشاپس میں مسلسل کام
یکہ توت بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں میں قائم پتنگ سازی کی ورکشاپس میں ان دنوں مسلسل کام جاری ہے۔ کاریگر رات گئے تک محنت کر کے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں تیار کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
کاروباری حلقوں کی امیدیں
کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ بسنت کی آمد سے نہ صرف لاہور بلکہ دیگر شہروں میں بھی پتنگ سازی اور اس سے منسلک صنعتوں کو فروغ مل رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس سال پتنگوں اور متعلقہ سامان کی فروخت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
اختتامیہ:
بسنت کے قریب آتے ہی جہاں لاہور کی مارکیٹس میں پتنگوں اور ڈور کی فروخت نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں، وہیں پشاور کے یکہ توت بازار اور دیگر مراکز میں کاریگروں کی محنت سے یہ روایتی صنعت ایک بار پھر عروج کی طرف گامزن دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کے دنوں میں اس صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد کو روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آتے ہیں.