پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کی تیاریاں تیز، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے خصوصی کنٹینر تیار — قیادت میں حکمت عملی پر مشاورت جاری

پشاور/اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ممکنہ بڑے احتجاج کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ پارٹی ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے خصوصی کنٹینر بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب پارٹی قیادت کے مختلف بیانات کے باعث احتجاج کی نوعیت اور حکمت عملی سے متعلق سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

خصوصی کنٹینر بطور مرکزی اسٹیج

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے تیار کیے گئے 40 فٹ طویل کنٹینر کو مرکزی اسٹیج کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔ کنٹینر میں واش روم، بیٹھنے کے لیے سیٹنگ ایریا اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کنٹینر پر نمایاں طور پر “آزادی یا موت” درج کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اس کنٹینر کے معائنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آ چکی ہے۔

رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بھی کنٹینر کی تیاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں تیار کنٹینر کسی بھی وقت احتجاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی موجود ہوں گے۔

احتجاجی حکمت عملی پر مشاورت

ذرائع کے مطابق ممکنہ احتجاج کے مقام، وقت اور لائحہ عمل سے متعلق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی کے چند اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں احتجاجی حکمت عملی، تنظیمی تیاریوں اور کارکنان کی متحرک سازی پر غور کیا گیا۔ پارٹی قیادت کی جانب سے ابھی تک احتجاج کی حتمی تاریخ یا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم کارکنان کو ممکنہ احتجاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

قیادت کے بیانات اور سیاسی منظرنامہ

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کے بانی عمران خان نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق کنٹینر کو اسلام آباد لے جانے یا وہاں احتجاج کی تیاریوں سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن قائدین محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کا اختیار دیا ہے، جن میں مذاکرات یا مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے سے متعلق فیصلے شامل ہیں۔

آئندہ لائحہ عمل

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر احتجاج کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث حتمی حکمت عملی ابھی واضح نہیں ہو سکی۔ تاہم پارٹی کی جانب سے جاری تیاریوں اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں احتجاجی سیاست ایک بار پھر ملکی سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہوسکتی ہے، جبکہ شائقین سیاست اور مبصرین پارٹی کے باضابطہ اعلان کے منتظر ہیں

Related posts

حکومت کی منظوری کے بعد گرین شرٹس بھارت کے خلاف میدان میں اتریں گے، 15 فروری کے میچ میں شرکت کی ہدایت جاری

پاک بھارت ورلڈکپ میچ پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے، آئی سی سی سے مذاکرات جاری ہیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی

سفارتی رابطوں کے بعد پاک بھارت ورلڈکپ میچ کھیلنے کا امکان مضبوط، سری لنکن صدر کی درخواست پر اہم پیشرفت