پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کانووکیشن سے خطاب، صوبے کو مزید “تجربہ گاہ” نہ بنانے کا اعلان

پشاور — وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا اور مختلف پالیسیوں کے نام پر صوبے کو تجربہ گاہ بنایا جاتا رہا، تاہم اب وہ صوبے کو مزید تجربات کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دھونس اور بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے صوبے پر اپنی مرضی مسلط کر لے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔

وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) پشاور کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے طلبہ، اساتذہ اور والدین سے بھی گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو یا کھیلوں کا میدان—ہر شعبے میں نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ مواقع کی کمی ہے جسے ختم کرنے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

امن و امان اولین ترجیح

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے اور جب تک امن قائم نہیں ہوگا، ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اداروں کی ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت معاشی استحکام میں بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار عدم اعتماد کا شکار ہیں اور صنعت کار ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کے بہترین دماغ بیرونِ ملک چلے گئے تو ملک کو نقصان ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو مقامی سطح پر بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔

وفاق سے مالی حقوق لینے کا عزم

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کے چار ہزار ارب روپے سے زائد واجبات روکے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کی مدد اور سیاسی قوت کے ذریعے یہ رقم حاصل کریں گے تاکہ صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

نوجوانوں کے روزگار پر زور

سہیل آفریدی نے جامعات میں بڑھتی بے روزگاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو عملی میدان میں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے اور انہیں ہنر مند بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

سیاسی پیغام اور مفاہمت کا عندیہ

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ذاتی مفادات کے لیے کسی کے دروازے پر نہیں جائیں گے، تاہم صوبے کے مفاد میں ہر اسٹیک ہولڈر کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، چاہے ان کے ذاتی اختلافات کیوں نہ ہوں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی ترقی کچھ حلقوں کو قبول نہیں، لیکن حکومت ہر قیمت پر صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی ہے اور سب کو مل کر ملک کو ایک عظیم ریاست بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا

Related posts

کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات تیز، 8 ہفتوں میں رپورٹ مکمل کرنے کا ہدف — وزیر داخلہ سندھ

توشہ خانہ فوجداری کیس: سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کر دیا، اڈیالہ جیل میں عمران خان کی بیرک تک رسائی کی اجازت

حکومت کی منظوری کے بعد گرین شرٹس بھارت کے خلاف میدان میں اتریں گے، 15 فروری کے میچ میں شرکت کی ہدایت جاری