کراچی — وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کے لیے حکومت نے ٹھوس اقدامات شروع کر دیے ہیں اور انکوائری کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم گل پلازہ انکوائری کمیشن کو آٹھ ہفتوں میں جامع تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ کمیشن کو عمارت کی تعمیراتی منظوری، لیز کی قانونی حیثیت اور بلڈنگ پلان کی ممکنہ خلاف ورزیوں سمیت تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تعمیرات، سیفٹی اور ایمرجنسی نظام کی چھان بین
وزیر داخلہ کے مطابق کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ آیا عمارت میں ایمرجنسی انخلا کے راستوں میں رکاوٹیں موجود تھیں یا نہیں اور آگ بجھانے کے انتظامات کس حد تک مؤثر تھے۔ فائر سیفٹی آڈٹ میں ممکنہ خامیوں، حفاظتی اقدامات کی کمی اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین بھی تحقیقات کا حصہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات، حادثے کے وقت کے حالات اور ریسکیو آپریشن کی رفتار و کارکردگی کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر پالیسی بنائی جا سکے۔
ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا عندیہ
ضیاء لنجار نے واضح کیا کہ متعلقہ افسران، بلڈنگ مینجمنٹ اور دیگر ذمہ داران کے کردار کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داری فکس کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
متاثرین کی مدد اور حکومتی اقدامات
وزیر داخلہ نے کمشنر کراچی کو انکوائری کمیشن کو مکمل انتظامی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی داد رسی میں تاخیر نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق شفاف تحقیقات اور سخت فیصلوں کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔
سانحہ گل پلازہ: پس منظر
یاد رہے کہ 17 جنوری 2026 کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس سانحے نے شہر میں فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا تھا، جس کے بعد حکومت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
حکام کے مطابق انکوائری کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے نئی حفاظتی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔