اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع خدیجتہ الکبریٰ امام بارگاہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 6 فروری کو پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شہید نوجوان عون عباس کی بے مثال بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کیلئے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا۔
شہداء اور زخمیوں کیلئے مالی امداد
وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کیلئے خصوصی مالی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہید کے اہل خانہ کو 50 لاکھ روپے، شدید زخمی افراد کو 30 لاکھ روپے جبکہ دیگر زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردی کے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
واقعے پر قومی دکھ کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے تعزیت کیلئے امام بارگاہ آئے ہیں اور 6 فروری کے دہشت گردی کے افسوسناک واقعے پر ملک بھر میں شدید رنج و غم پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس حملے میں بزرگ، نوجوان، بچے اور خاندان متاثر ہوئے، جس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ متاثرہ خاندانوں کیلئے ناقابل برداشت صدمہ ہے، تاہم حکومت اور پوری قوم ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ وزیراعظم نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
اتحاد و یکجہتی کا پیغام
وزیراعظم نے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اور ہم آہنگی کے ذریعے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد انتہائی ضروری ہے۔
شہید عون عباس کی بہادری کو سلام
وزیراعظم نے نوجوان شہید عون عباس کی جرات و قربانی کو عظیم مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا، جس پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے بہادر نوجوان ملک کا فخر ہیں اور ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔