اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی فراہم کرنے اور ان کے بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت دینے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے اور صحت سے متعلق اقدامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں۔
سماعت کی تفصیلات
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران عدالت میں متعلقہ حکام کی جانب سے رپورٹس پیش کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق عمران خان نے جیل میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی کی درخواست کی تھی۔
حکومت کا مؤقف اور عدالت کے ریمارکس
دوران سماعت اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت عمران خان کو ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان اس وقت ریاستی تحویل میں ہیں، اس لیے انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عمران خان کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں کوئی خصوصی رعایت دینے کی بات نہیں کی جا رہی، بلکہ تمام قیدیوں کو یکساں اور معیاری طبی سہولیات فراہم ہونا ضروری ہے۔
طبی معائنے کے احکامات
عدالت نے عمران خان کی آنکھ کا تفصیلی طبی معائنہ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کا معاملہ انتہائی اہم ہے اور اس پر فوری توجہ ضروری ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مماثلت پائی گئی ہے، جس پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کیا۔
بچوں سے رابطے کی سہولت
سماعت کے دوران عمران خان کے بچوں سے رابطے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت دینا بھی اہم ہے۔ بعد ازاں عدالت نے عمران خان کو ان کے بچوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفونک رابطوں کی اجازت دینے کا حکم جاری کر دیا۔
ریاست کی ذمہ داری
اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی قیدی سہولیات سے مطمئن نہ ہو تو حکومت ضروری اقدامات کرے گی۔ عدالت نے اصل کیس کی سماعت کا حکم محفوظ کرتے ہوئے آئندہ پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔