اسلام آباد: قومی اسمبلی میں سال 2025 کے دوران خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیے گئے پاکستانی شہریوں کی تفصیلات پیش کر دی گئیں، جن کے مطابق مجموعی طور پر 38 ہزار 616 پاکستانی مختلف وجوہات کی بنیاد پر وطن واپس بھیجے گئے۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز نے وقفہ سوالات کے دوران تحریری جواب میں یہ اعداد و شمار ایوان میں جمع کرائے۔
کن ممالک سے کتنے پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے؟
وزارت کے مطابق سعودی عرب سے سب سے زیادہ 27 ہزار 692 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار 794 افراد ڈی پورٹ ہوئے۔ دیگر خلیجی ممالک میں عمان سے 2 ہزار 537، بحرین سے 786، قطر سے 644 اور کویت سے 163 پاکستانیوں کی واپسی رپورٹ ہوئی۔
ڈی پورٹیشن کی وجوہات
ایوان کو بتایا گیا کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد غیر قانونی قیام، ویزا کی خلاف ورزی، بھیک مانگنے، چوری، اقامہ کی مدت ختم ہونے اور دیگر جرائم میں ملوث پائے گئے۔ حکام کے مطابق بیرون ملک قوانین کی خلاف ورزی پاکستانی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہمات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی کاروبار کے خلاف کارروائیاں
رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جنوری 2025 سے اب تک غیر قانونی حوالہ ہنڈی اور غیر ملکی کرنسی کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف 551 چھاپے مارے۔ اس دوران 576 مقدمات درج کیے گئے، 703 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 324 کیسز میں عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی گئیں۔
قومی سیٹلائٹ اور نیا فریم ورک
دوسری جانب وزارت دفاع نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے ایک جامع قومی یوٹیلائزیشن فریم ورک تیار کر لیا ہے اور پاکستان کی پہلی ہائپر اسپیکٹریکل سیٹلائٹ اس وقت مدار میں ٹیسٹنگ کے مرحلے میں ہے۔
حکام کے مطابق سیٹلائٹ ٹیسٹنگ مکمل ہونے کے بعد رواں ماہ کے اختتام تک مختلف اداروں کو امیج ڈیٹا فراہم کیا جا سکے گا۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ اس فریم ورک کے تحت زراعت، ماحولیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں جدید خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔