لاہور — وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور سے متعلق ایک خاتون کے مبینہ متنازع بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ایک پُرامن، زندہ دل اور ثقافتی روایات کا حامل شہر ہے، جس کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں لاہور کے اہم مقامات کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے والے عناصر آج اسی شہر پر تنقید کر رہے ہیں، جو عوام کے جذبات کے منافی ہے۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں لبرٹی چوک اور مینارِ پاکستان جیسے مقامات کو سیاسی جلسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا، وہ آج لاہور کی ثقافت اور عوامی رویوں پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے عناصر کو اپنی سیاسی حکمت عملی اور بیانات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
وزیر اطلاعات نے مخالفین کے طرزِ سیاست پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام انتشار اور فساد کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور انہوں نے امن، خوشحالی اور مثبت سرگرمیوں کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق لاہور اور پنجاب کے شہریوں نے حالیہ مواقع پر امن اور ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کرکے یہ واضح پیغام دیا کہ وہ منفی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ماضی میں بعض سیاسی رہنماؤں کی فیملیز ثقافتی تقریبات میں شریک ہوتی رہی ہیں تو پھر آج انہی سرگرمیوں پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو دوہرا معیار اختیار کرنے کے بجائے یکساں رویہ اپنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی ترقی پر تنقید کرنے کے بجائے مخالفین کو اپنی سابقہ حکومتوں کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور مبینہ انقلابی بیانیوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کو اہمیت دیتے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق ملک اس وقت ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ سیاسی استحکام اور امن کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان مزید سیاسی کشیدگی، انتشار اور فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے