اسلام آباد: عمران خان کی بینائی سے متعلق فیصلہ ماہر ڈاکٹر کریں گے، وکیل نہیں — طلال چوہدری

اسلام آباد — وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کی صحت اور بینائی کی اصل صورتحال کا فیصلہ کسی وکیل کے بجائے ماہر ڈاکٹر کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے وکیل کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مؤکل کی طبی رپورٹ تیار کریں، جو قانون کی حکمرانی کی ایک مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی وکیل کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی مریض کی صحت یا بینائی کے بارے میں حتمی رائے دے، بلکہ اس حوالے سے فیصلہ صرف ماہر ڈاکٹروں کا ہوتا ہے، اور اسی مقصد کے لیے ماہر ڈاکٹرز کو بھیج دیا گیا ہے۔

حکومت کا مؤقف: علاج اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ عمران خان کو قانون کے مطابق تمام سہولیات دی جا رہی ہیں، اور اب سامنے آنے والی رپورٹس نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بروقت علاج، طبی سہولیات اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

سیاسی ردعمل اور الزامات

طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی اس معاملے کو سیاسی ایشو بنانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ان کے پاس اب کوئی اور سیاسی کارڈ نہیں رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 8 فروری کے احتجاج میں ناکامی کے بعد پارٹی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے عمران خان کی صحت کے معاملے کو نمایاں کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عمران خان کو ذاتی دشمن نہیں بلکہ سیاسی مخالف سمجھتی ہے، اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ انہیں سہولیات سے محروم کیا جائے گا بلکہ انہیں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو قانون کے تحت ہر قیدی کو حاصل ہوتے ہیں۔

جیل میں سہولیات اور خوراک سے متعلق دعوے

وزیر مملکت داخلہ نے مزید کہا کہ سامنے آنے والی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کو جیل میں عام قیدیوں کے مقابلے میں زیادہ سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں خوراک اور دیگر سہولیات کی تفصیل موجود ہے، جس کے مطابق انہیں معیاری کھانا اور پاکستان کے معروف برانڈز کا منرل واٹر فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق عمران خان کا جیل مینو عام افراد کے گھروں سے بھی بہتر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سیاسی و قانونی حلقوں میں اس بیان کے بعد عمران خان کی صحت، جیل میں دستیاب سہولیات اور حکومتی مؤقف پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

Related posts

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مکمل علاج تک اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا اعلان

اسلام آباد: عمران خان کی آنکھوں کی صحت پر نیا تنازع، سلمان اکرم راجہ نے سابق سپرنٹنڈنٹ جیل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان

اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں عمران خان کو دستیاب سہولیات کی رپورٹ منظرعام پر، دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ جانے کا دعویٰ