اسلام آباد: عمران خان کی آنکھوں کی صحت پر نیا تنازع، سلمان اکرم راجہ نے سابق سپرنٹنڈنٹ جیل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان

اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق غفلت برتی گئی اور اس حوالے سے سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف جرم کا ارتکاب ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری متعلقہ جیل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

عمران خان کی بینائی سے متعلق دعوے

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان نے انہیں بتایا ہے کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی واپس نہیں آئی اور وہ صرف روشنی محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان ڈاکٹرز سے کروایا جانا چاہیے جن پر عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو اعتماد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی آنکھ میں تکلیف کے باوجود انہیں صرف سادہ ڈراپ دیا گیا، جس سے مسئلہ مزید سنگین ہوگیا۔

سابق سپرنٹنڈنٹ جیل پر الزامات

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان کی طبی شکایات کو نظرانداز کیا گیا اور سابق سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ان کے مطابق پارٹی اس معاملے پر قانونی کارروائی کرے گی اور متعلقہ افسر کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

علیمہ خان کا مؤقف

اس موقع پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی ہفتوں تک خاندان کو یہ نہیں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان گزشتہ تین ماہ سے آنکھ میں تکلیف اور نظر کی کمی کی شکایت کرتے رہے، مگر بروقت علاج نہیں کیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جیل حکام کو صورتحال کا علم تھا لیکن بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ کیمروں کے ذریعے بھی حالت دیکھی جا سکتی تھی۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا علاج شفاء اسپتال میں ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں کرایا جائے گا اور فوری طبی اقدامات کی ضرورت ہے۔

دیگر دعوے اور سیاسی بیان

علیمہ خان نے کہا کہ اگر بروقت انصاف ملتا تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے۔ انہوں نے بعض افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی باتیں درست نہیں ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

سیاسی و قانونی حلقوں میں ان بیانات کے بعد عمران خان کی صحت، جیل انتظامیہ کی ذمہ داری اور ممکنہ قانونی کارروائی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Related posts

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مکمل علاج تک اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا اعلان

اسلام آباد: عمران خان کی بینائی سے متعلق فیصلہ ماہر ڈاکٹر کریں گے، وکیل نہیں — طلال چوہدری

اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں عمران خان کو دستیاب سہولیات کی رپورٹ منظرعام پر، دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ جانے کا دعویٰ