اسلام آباد — اپوزیشن اتحاد نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے فوری ملاقات اور ان کے مکمل طبی علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اپوزیشن رہنماؤں کے اہم اجلاس میں موجودہ سیاسی و طبی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد احتجاجی لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر احتجاج
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے کے باہر دھرنا دے گی۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو احتجاج کی قیادت سونپی گئی ہے جبکہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو فوری طور پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت اور بنیادی حقوق کے معاملے پر فوری اقدامات کیے جائیں۔
عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ سامنے آگئی
دوسری جانب اڈیالا جیل میں قید عمران خان کو دی جانے والی سہولیات اور طبی صورتحال سے متعلق ایک رپورٹ بھی سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے سپریم کورٹ میں ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنہ کروانے کی درخواست کی ہے، جبکہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی طبی معائنہ کروانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قید تنہائی اور سہولیات سے متعلق مطالبات
رپورٹ میں عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مطالعے کے لیے مزید کتابیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی مکمل طور پر نارمل تھی، تاہم بعد ازاں ایک آنکھ کی بینائی تیزی سے متاثر ہوئی۔
طبی شکایات اور علاج کی تفصیلات
دستاویزات کے مطابق عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کئی ماہ تک آنکھ میں دھندلاہٹ اور نظر مدھم ہونے کی شکایت کرتے رہے مگر جیل حکام نے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ بعد میں ان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہوگئی جس پر پمز اسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے شدید نقصان ہوا اور علاج، بشمول انجیکشن، کے باوجود بینائی صرف 15 فیصد تک بحال ہو سکی۔
سیاسی فضا میں کشیدگی میں اضافہ
اپوزیشن اتحاد کے دھرنے کے اعلان اور عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے بعد ملکی سیاسی ماحول میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس اعلان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔