اسلام آباد — قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کے قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے فوج سے متعلق بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اندر بے چینی پیدا ہوگئی، جس پر پارٹی قیادت نے فوری طور پر اپنا واضح مؤقف پیش کرتے ہوئے وضاحت جاری کی۔
ایوان میں بیان اور سیاسی ردعمل
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اچکزئی نے اپنے ماضی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے فوج کے حوالے سے بیان دیا جس پر ایوان میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں اچکزئی کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اسے خطرناک اور نامناسب قرار دیا اور کہا کہ قومی اداروں کے بارے میں اس نوعیت کے بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں۔
ایوان میں جواب دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ 1990ء کی دہائی سے اپنے موقف پر قائم ہیں اور انہوں نے بیان واپس لینے سے گریز کیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی۔
پی ٹی آئی قیادت کا فوری ردعمل
پارٹی ذرائع کے مطابق اچکزئی کے بیان کے بعد بیرسٹر گوہر علی خان نے فوری طور پر اسپیکر سے فلور لینے کی اجازت طلب کی، جو ان کی جانب سے غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دہشت گردی جیسے معاملات پر قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ بیانیہ اپنانا ہوگا۔
انہوں نے مسلح افواج کے حوالے سے پارٹی کا واضح موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور ملک دونوں ہمارے ہیں، اور فوجی شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے اور اسے کسی متنازع بیان سے جوڑا نہ جائے۔
اندرونی سطح پر مشاورت
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق بعد ازاں بیرسٹر گوہر نے پارٹی قانون سازوں سے بھی اس معاملے پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ اپوزیشن اتحاد میں اختلافِ رائے کے باوجود قومی اداروں کے حوالے سے پارٹی پالیسی واضح اور قومی مفاد کے مطابق رہنی چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے واضح کیا کہ اچکزئی کے ریمارکس کو پی ٹی آئی کا باضابطہ مؤقف نہ سمجھا جائے۔
اپوزیشن اتحاد کے لیے چیلنج
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اپوزیشن اتحاد کے اندر پیغام رسانی کے نظم و ضبط سے متعلق چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً حساس قومی معاملات پر۔ تاہم پی ٹی آئی قیادت نے فوری ردعمل دے کر اس معاملے کو محدود رکھنے کی کوشش کی اور اپنے مؤقف کو قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں بھی کہا کہ پارٹی کا موقف پہلے ہی واضح ہے اور قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے، اس لیے کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔