کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جدوجہد کے بعد امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے اور اب صوبائی حکومت کچے کے علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں صوبے میں امن و استحکام قائم ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے افسران اور جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مراد علی شاہ نے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل دادو میں تین پولیس اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت حاصل کی، جبکہ کراچی میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی قربانیوں کی بدولت آج سندھ نسبتاً پرامن ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ماضی کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے تھے، تاہم حکومتی اقدامات اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ حکمت عملی سے صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے پولیس کارروائیوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال جنوری سے دسمبر تک مجموعی طور پر 1325 پولیس مقابلے ہوئے جن میں 207 مبینہ ڈاکو مارے گئے۔ اسی طرح رواں سال یکم جنوری سے اب تک 115 مقابلے کیے گئے جن میں 27 ڈاکو ہلاک، 82 زخمی ہوئے جبکہ 81 کو گرفتار کیا گیا اور 153 نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔
مراد علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ پولیس اسی جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام جاری رکھے گی اور جلد ہی کچے کے علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کے بعض دیگر صوبوں میں اب بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن سندھ حکومت امن کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے نئے پاس آؤٹ ہونے والے پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور صوبے کے امن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نئی فورس جدید تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے جرائم کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے گی۔