اسلام آباد: حالیہ عدالتی پیش رفت اور سابق وزیراعظم عمران خان کی خاموشی نے ملکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ آیا ان کی قانونی و سیاسی پابندیوں میں کسی ممکنہ نرمی یا مفاہمت پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک کسی بھی سرکاری یا عدالتی سطح پر ایسی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے ملنے والے محدود ریلیف اور حالیہ عدالتی کارروائیوں کے بعد سیاسی مبصرین مختلف امکانات پر بات کر رہے ہیں۔ اس دوران حکومتی مؤقف یہ ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، جس کی یقین دہانی اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو کرائی جا چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مقدمات کے باعث اڈیالہ جیل میں قید عمران خان گزشتہ چند ماہ سے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا سے ملاقات نہ ہونے کے باعث کوئی واضح سیاسی پیغام جاری نہیں کر سکے۔ اسی صورتحال نے سیاسی تجزیہ کاروں اور پارٹی کے اندر بھی غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے کہ اگر انہیں دوبارہ ملاقاتوں یا اظہارِ رائے کی اجازت ملی تو ان کا ردعمل کیا ہو گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا ہے کہ عمران خان کے اگلے سیاسی اقدام کی پیش گوئی کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ ایک سینئر پارٹی شخصیت کے مطابق عمران خان عموماً اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ انہیں دوبارہ کھل کر بات کرنے کا موقع ملنے پر وہ کس نوعیت کی حکمتِ عملی اختیار کریں گے۔
ماضی میں عمران خان وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، جن کے ذریعے بیانات میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پہنچائے جاتے تھے۔ ان کے بعض سخت بیانات، خصوصاً ریاستی اداروں کے حوالے سے، مبینہ طور پر ملاقاتوں پر پابندیوں کی ایک بڑی وجہ قرار دی جاتی رہی ہیں۔
ادھر سیاسی مبصرین نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حالیہ ملاقاتوں کو بھی خاص اہمیت دی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں سخت شرائط کے تحت ممکن بنائی گئیں اور متعلقہ افراد کو ہدایت دی گئی کہ سیاسی گفتگو سے گریز کریں اور میڈیا سے بات نہ کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں عمران خان کو اہلِ خانہ یا پارٹی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی گئی تو ان پر بھی ممکنہ طور پر اسی نوعیت کی شرائط لاگو ہوں گی۔ تاہم سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا عمران خان ایسی پابندیوں کو قبول کریں گے یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی سطح پر مفاہمت یا بڑی سیاسی نرمی کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے لیے اعتماد سازی بنیادی شرط ہو گی، لیکن گزشتہ برسوں کے سیاسی تناؤ اور عمران خان کے غیر متوقع طرزِ سیاست کے باعث اس عمل میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ بعض پارٹی رہنما کشیدگی میں کمی اور سیاسی عمل میں واپسی کے حامی دکھائی دیتے ہیں، تاہم عمران خان کے ممکنہ فیصلوں کے بارے میں پارٹی کے اندر بھی مکمل یقین نہیں پایا جاتا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالتی پیش رفت، ملاقاتوں کی اجازت اور عمران خان کے ممکنہ بیانات ملکی سیاست کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ سیاسی حلقے فی الحال صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔