اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی، جس میں ان کی صحت کی سنگین صورتحال کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان دائیں آنکھ کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان کی بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ درخواست کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف نے تشخیص کے بعد بتایا کہ خون کے لوتھڑے کی وجہ سے عمران خان کی دائیں آنکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بیماری کے باعث عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے اور اس بیماری کا مناسب علاج جیل کے اندر ممکن نہیں۔ مزید کہا گیا کہ عمران خان کی عمر 73 سال ہے، اس لیے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے تاکہ وہ مناسب طبی سہولیات کے ساتھ علاج کروا سکیں۔
قانونی ٹیم نے عدالت میں یہ بھی درخواست دی ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ وکیل صفائی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت اور عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمات کی فوری سماعت ضروری ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ پمز اسپتال کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ اور تحقیق کے بعد بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی رپورٹس میں واضح طور پر بیماری کی سنگینی کا ذکر موجود ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کے تحت عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ فوری اور مؤثر علاج حاصل کر سکیں۔ عدالت کی جانب سے درخواست کی سماعت کی تاریخ جلد مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔