اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین Pakistan Tehreek-e-Insaf اور سابق وزیراعظم Imran Khan کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور Tariq Fazal Chaudhry نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی۔
صحت کے پیش نظر فیصلہ
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور اس مسئلے کو قومی سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولت
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق اور قانونی سہولیات فراہم کرنا آئینی تقاضا ہے۔
سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں فیصلہ
عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کا معاملہ گزشتہ چند روز سے سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنا ہوا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ان کا فوری طبی معائنہ اور علاج یقینی بنایا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
ذرائع کے مطابق عمران خان کو جلد ہی سیکیورٹی انتظامات کے تحت متعلقہ اسپتال منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ اور علاج کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طبی رپورٹ کی روشنی میں مزید اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں اب اس پیش رفت پر مرکوز ہیں کہ اسپتال منتقلی کے بعد طبی رپورٹ کیا منظرنامہ پیش کرتی ہے اور اس کے سیاسی اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔