اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی سلامتی کے پیش نظر ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ہفتے کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں اور کالعدم تنظیموں کے ممکنہ سلیپر سیلز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
داعش کی ممکنہ موجودگی پر تشویش
اجلاس میں Islamic State (داعش) کی پاکستان میں ممکنہ موجودگی اور اس سے جڑے خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سکیورٹی اداروں نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض علاقوں میں شدت پسند نیٹ ورکس کی خاموش سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر فوری اور مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی کالعدم تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے یا نئے نام سے سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سلیپر سیلز کے خلاف کارروائی
اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو تیز کیا جائے اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
حکام کے مطابق:
• حساس علاقوں میں نگرانی بڑھائی جائے گی
• کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کے ذرائع بند کیے جائیں گے
• سوشل میڈیا اور آن لائن نیٹ ورکس کی مانیٹرنگ سخت کی جائے گی
• بین الصوبائی تعاون کو مؤثر بنایا جائے گا
قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرینڈ آپریشن کو قومی ایکشن پلان کے تحت مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
سکیورٹی الرٹ میں اضافہ
اجلاس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کرنے اور حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا۔ آئندہ چند روز میں مختلف علاقوں میں آپریشنز کے عملی آغاز کا امکان ہے، جس کے نتائج مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔