رحیم یار خان: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ پیدائش کے بعد اذان کے فوراً بعد گولیوں کی آواز سننے والے ہیں، اس لیے انہیں دھمکیوں اور دباؤ سے نہ ڈرایا جائے۔ کارکنوں سے خطاب میں انہوں نے سیاسی جدوجہد، پارٹی تاریخ اور قومی یکجہتی پر تفصیلی گفتگو کی۔
سرائیکی شناخت اور سیاسی وابستگی
صدر زرداری نے کہا کہ وہ سرائیکیوں کی عزت کرتے ہیں اور ان کی مادری زبان بھی سرائیکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ سونپنا اسی اعتماد اور نمائندگی کی علامت تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ علاقائی شناخت اور وفاقی ہم آہنگی کو مقدم رکھا ہے۔
بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کا حوالہ
اپنے خطاب میں صدر نے اپنی اہلیہ اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت اور قربانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی بی جیسی سوچ اور وژن رکھنے والا لیڈر کم ہی نظر آتا ہے۔
ان کے مطابق، دوست ممالک نے بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی سے روکنے کا مشورہ دیا تھا، مگر انہوں نے عوام سے کیا گیا وعدہ نبھانے کو ترجیح دی۔ صدر زرداری نے کہا کہ انہیں بھی اس سانحے کا گمان نہ تھا اور انہوں نے بے نظیر کو جلسے میں جانے سے روکا، لیکن وہ “نہ ڈرنے والی بھٹو کی بیٹی” تھیں۔
قید و بند اور سیاسی استقامت
صدر مملکت نے اپنے خطاب میں جیل کی صعوبتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا حوصلے سے کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو پانچ سال سکھر جیل میں رکھا گیا، جبکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی مختلف ادوار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ “جتنا آپ جھکیں گے، اتنی عزت ملے گی”، اور سیاسی جدوجہد میں صبر اور استقامت بنیادی اصول ہیں۔
قومی وحدت پر زور
آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کو کسی صورت ٹوٹنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود جمہوریت اور وفاقی ڈھانچے کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
کارکنوں کے لیے پیغام
خطاب کے اختتام پر صدر نے کارکنوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات عارضی ہوتی ہیں، لیکن نظریہ اور عوامی خدمت مستقل اقدار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی جمہوری روایات، عوامی حقوق اور قومی یکجہتی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔