راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی تفصیلی طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے معائنے کے بعد ڈاکٹرز کی ٹیم جیل سے واپس روانہ ہوگئی، جبکہ میڈیکل رپورٹ آج ہی مرتب کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آنکھوں کا خصوصی معائنہ
ذرائع کے مطابق سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے عمران خان کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ٹیم خصوصی طبی آلات اپنے ہمراہ لائی تھی، جن کی مدد سے آنکھوں کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔
میڈیکل ٹیم میں ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر عارف شامل تھے، جبکہ معاونت کے لیے ٹیکنیشن بھی موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹرز معائنے کی مکمل رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کریں گے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت
یہ معائنہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر کیا گیا، جس نے 16 فروری سے قبل بانی پی ٹی آئی کی طبی رپورٹ طلب کر رکھی تھی۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
ذرائع کے مطابق ہولی فیملی اسپتال کی ایمبولینس گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل میں داخل ہوئی، جس کے بعد جیل کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم مختلف طبی آلات اور ادویات بھی ساتھ لائی تھی اور رپورٹ جلد مرتب کر لی جائے گی۔
سیاسی ردعمل اور اپوزیشن کا مؤقف
یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپوزیشن نے اعلان کیا تھا کہ اگر اسپتال منتقل نہ کیا گیا تو پارلیمنٹ ہاؤس میں احتجاج کیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے گزشتہ روز الشِفاء آئی اسپتال کے دو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا تاکہ آنکھوں کے معائنے کو شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
پی ٹی آئی قیادت کی عدم موجودگی
ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم نے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک پی ٹی آئی قیادت کا انتظار کیا، تاہم کسی رہنما کے نہ پہنچنے پر ڈاکٹرز نے خود ہی معائنہ مکمل کیا۔
حکومتی و قانونی حلقوں کی نظریں اب طبی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس کے بعد عمران خان کی صحت اور ممکنہ طبی سہولتوں کے حوالے سے آئندہ اقدامات کا فیصلہ متوقع ہے۔