لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ایک اہم عوامی فلاحی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یکم رمضان المبارک سے ”مریم کو بتائیں“ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مالی مشکلات کا شکار خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
24 گھنٹے کے اندر 10 ہزار روپے تک امداد
وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق اس پروگرام کے تحت مستحق افراد 24 گھنٹے کے اندر 10 ہزار روپے تک مالی امداد حاصل کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ”مریم کو بتائیں“ ہیلپ لائن 1000 کو یکم رمضان سے فعال کیا جا رہا ہے۔
ضرورت مند افراد ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنی درخواست درج کرا سکیں گے، جبکہ ویب پورٹل یا موبائل ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ نمبر درج کر کے بھی مالی امداد کی درخواست دی جا سکے گی۔
شفافیت کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام
حکومت پنجاب کے مطابق پروگرام کو مکمل شفاف بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ درخواستوں کی جانچ پڑتال ایک شفاف سسٹم کے تحت کی جائے گی، جس میں:
• لائیو ٹریکنگ سسٹم
• ڈیجیٹل ریکارڈنگ
• مرکزی مانیٹرنگ کا نظام
شامل ہوگا تاکہ امداد حقیقی مستحقین تک بروقت پہنچ سکے۔
PSER میں رجسٹرڈ افراد کے لیے فوری ٹرانسفر
حکام کے مطابق Punjab Socio-Economic Registry (PSER) میں پہلے سے رجسٹرڈ درخواست گزاروں کو امدادی رقم 24 گھنٹے کے اندر منتقل کر دی جائے گی۔
جبکہ جو افراد PSER میں رجسٹرڈ نہیں ہیں، ان کی تصدیق اور رجسٹریشن کے لیے زیادہ سے زیادہ چار دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں بھی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
رمضان میں ریلیف کی یقین دہانی
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں کوئی بھی مستحق خاندان حکومتی مدد سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب اس پروگرام کے ذریعے مالی دباؤ کا شکار افراد تک براہِ راست رسائی کو یقینی بنائے گی اور امدادی عمل کو تیز، شفاف اور باوقار بنایا جائے گا۔
صوبائی حکومت کے مطابق ”مریم کو بتائیں“ پروگرام کا مقصد روایتی امدادی طریقہ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ کر فوری اور مؤثر عوامی خدمت فراہم کرنا ہے، تاکہ مستحق افراد کو دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے گھر بیٹھے سہولت میسر آسکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران اس پروگرام کو خصوصی مانیٹرنگ کے تحت چلایا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا تاخیر کی گنجائش نہ رہے۔