اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان طویل اور پیچیدہ مشاورت کے بعد پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی خاموش سفارتی کوششوں نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی کے آنکھوں کے معائنے کا انتظام باہمی اتفاقِ رائے سے ممکن بنایا گیا۔
پسِ پردہ سفارت کاری اور رابطوں کی بحالی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باضابطہ رابطے تقریباً منقطع تھے، وفاقی وزیرداخلہ نے پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے اعتماد سازی کی فضا قائم کی۔ اعلیٰ سطحی حلقوں سے قربت رکھنے والے محسن نقوی نے دونوں فریقین کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے میں کردار ادا کیا اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کی راہ ہموار کی۔
آزاد میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر اتفاق
مشاورت کے نتیجے میں طے پایا کہ عمران خان کے معائنے کے لیے ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ ایک آزاد معالج نامزد کرے۔ پی ٹی آئی نے ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام پیش کیا جسے حکام نے منظور کرلیا۔
مزید برآں، حکومت نے اس عمل کی نگرانی کے لیے خاندان کے ایک نمائندے کی نامزدگی کی بھی اجازت دی، تاکہ شفافیت سے متعلق خدشات دور کیے جا سکیں۔
خاندانی نمائندے پر اختلاف اور تاخیر
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر عمران خان کے بھانجے قاسم زمان کو خاندانی نمائندہ نامزد کیا، جس پر حکومتی سطح پر اتفاق بھی ہو گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اس نام کو واپس لیتے ہوئے ڈاکٹر نوشیروان برکی کو بطور نمائندہ شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
حکام کا موقف تھا کہ اگرچہ پی ٹی آئی کے نامزد کردہ ڈاکٹر کو میڈیکل بورڈ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم کسی خاندانی ڈاکٹر کو بطور نمائندہ شامل کرنا قواعد کے مطابق ممکن نہیں۔ اس کے بعد پی ٹی آئی سے کہا گیا کہ وہ خاندان کے کسی غیر ڈاکٹر فرد کو نامزد کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نمائندے کے نام میں بار بار تبدیلیوں کے باعث عمل میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس پر خود پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور اپوزیشن اتحاد کے نگران حلقے بھی حیران دکھائی دیے۔
اسپتال منتقلی کی تجویز اور حکومتی مؤقف
پی ٹی آئی نے یہ تجویز بھی دی کہ عمران خان کو داخلے کے لیے اسلام آباد کے معروف نجی اسپتال شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی اسپتال میں داخلہ صرف میڈیکل بورڈ کی سفارش پر منحصر ہوگا اور سپریم کورٹ کے حکم میں پیشگی داخلے کی کوئی ہدایت شامل نہیں۔
یہ مؤقف پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تک بھی پہنچایا گیا، اور انہیں اس معاملے پر متوازن اور مستقل حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
اڈیالہ جیل میں معائنہ مکمل
جب اپوزیشن کی جانب سے کوئی متبادل انتظام حتمی نہ ہو سکا تو آزاد میڈیکل بورڈ، جس میں پی ٹی آئی کے نامزد کردہ ڈاکٹر بھی شامل تھے، اڈیالہ جیل پہنچا اور عمران خان کا معائنہ کیا۔ پی ٹی آئی کو نمائندہ بھیجنے کی دعوت دی گئی تھی تاہم معائنے کے وقت کوئی خاندانی نمائندہ موجود نہ تھا۔
معائنے کے بعد بیرسٹر گوہر علی خان اور علامہ راجہ ناصر عباس کو ڈاکٹروں سے ملاقات کا موقع دیا گیا، جہاں انہیں طبی نتائج سے آگاہ کیا گیا۔ حکومت نے لاہور میں موجود پی ٹی آئی سے وابستہ معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا سے ٹیلیفونک مشاورت کا انتظام بھی یقینی بنایا۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ
میڈیکل بورڈ کے مطابق عمران خان کی آنکھوں میں کسی سنگین عارضے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ایک آنکھ کی بینائی 6/6 جبکہ دوسری کی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔ ڈاکٹروں نے ہلکے نمبر کے چشمے کے استعمال کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی حلقے اس پیش رفت کو عدالتی حکم پر عملدرآمد اور سیاسی تناؤ میں کمی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، تاہم آئندہ حکمتِ عملی اور باہمی رابطوں کے تسلسل کا انحصار دونوں فریقین کے طرزِ عمل پر ہوگا۔