وہاڑی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت Asif Ali Zardari نے سیاسی مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، اگر کوئی برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور آسان کام اختیار کر لینا چاہیے۔
انہوں نے نام لیے بغیر Imran Khan پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا اور وہاں سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، سیاست میں ایسا ہوتا ہے۔ اگر برداشت نہیں کر سکتے تو کوئی آسان کام کر لو۔”
زراعت ہی معیشت کا پائیدار حل قرار
صدر مملکت نے اپنے خطاب کا بڑا حصہ زرعی شعبے کی اہمیت پر مرکوز رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
• کسانوں کو سہولیات کی فراہمی وقت کا اہم تقاضا ہے۔
• زرعی شعبے کی بہتری کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں۔
• پاکستان میں قدرتی وسائل اور نعمتوں کی کمی نہیں، کمی صرف تسلسل اور طویل المدتی سوچ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ پر ہے، جبکہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کا واحد پائیدار حل زراعت میں پوشیدہ ہے۔
ججز کی تنخواہوں میں اضافے کا دعویٰ
صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے ججز کی تنخواہیں تین گنا بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ان کی ترجیح رہی ہے۔
کشمیر اور ایٹمی پروگرام پر مؤقف
صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی “شہ رگ” ہے اور اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم Zulfikar Ali Bhutto کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس نے ملک کے دفاع کو مضبوط بنایا۔
سیاسی بلوغت اور حکمرانی کی ضرورت
صدر زرداری نے کہا کہ حکمرانی کے لیے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے۔ ان کے مطابق سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے کہا کہ وہاں کے عوام میں احساسِ محرومی موجود ہے، تاہم ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں اور مکمل استحکام میں وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی حکومت سندھ اور بلوچستان تک محدود ہے، پنجاب میں ان کی حکومت نہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی اپنی الگ سیاسی سوچ ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید
صدر مملکت نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی حکومت نے عوامی فلاح کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ملک بنانا اور لوگوں کا کام کرنا ضروری ہے، صرف لڑائی جھگڑے سے معاملات حل نہیں ہوتے۔”
جیل اور سیاسی مشکلات کا حوالہ
اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ انہوں نے 14 سال جیل کاٹی اور جب اپنے بچوں سے ملے تو وہ قد میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں اور یہ زندگی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست کرنی ہے تو ہر شعبے کی ذمہ داری لینا ہوگی، ورنہ کسی ایک شعبے—جیسے فلاحی کام یا کھیل—کو اختیار کیا جا سکتا تھا۔
سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
صدر آصف علی زرداری کے اس خطاب کے بعد ملکی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی بڑھنے کا امکان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک معاشی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومتی اور اپوزیشن بیاناتی جنگ میں مزید تیزی آسکتی ہے۔