لاہور: صدر مملکت Asif Ali Zardari نے بلاول ہاؤس لاہور میں Pakistan Peoples Party کے اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں پارٹی کی مقامی اور صوبائی قیادت نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں اندرونی تنظیمی امور کے علاوہ ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پارٹی کے ڈویژنل اور ضلعی صدور، پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور وسطی پنجاب کے اضلاع کے نو منتخب عہدیداران شریک ہوئے۔
قومی چیلنجز کے دوران اتحاد کی ضرورت
صدر زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی دباؤ اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں قومی اتحاد، برداشت اور لچک ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کارکنان اور قیادت صبر، مستقل مزاجی اور منظم جدوجہد کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مذاکرات اور جمہوری مکالمہ ہی انصاف، قومی ہم آہنگی اور ترقی کا سب سے مضبوط ذریعہ ہیں۔
عوامی خدمت اور تعمیری سیاست پر زور
صدر مملکت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوامی خدمت اور تعمیری سیاست کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنے بانی نظریات اور تاریخی قیادت کی میراث پر قائم ہے۔
انہوں نے اس موقع پر پارٹی کے بانی Zulfikar Ali Bhutto، سابق وزیراعظم Benazir Bhutto اور چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی خودمختاری اور جمہوریت کے دفاع میں پیش پیش رہی ہے۔
معیشت اور زراعت پر خصوصی توجہ
صدر زرداری نے کہا کہ قومی ترقی کے لیے زراعت کو مضبوط بنانا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ شعبوں میں مسلسل توجہ اور عملی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط معیشت ہی پائیدار استحکام کی ضمانت ہے۔
قومی سلامتی پر دوٹوک مؤقف
قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی ہمیشہ پارٹی کی بنیادی ترجیح رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پارٹی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔
صدر نے کہا کہ عوام کے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد سے ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو شکست دی جا سکتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر پارٹی تنظیم کو مزید فعال بنانے اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔