اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر قومی سلامتی کو خطرات لاحق رہے تو پاکستان افغانستان میں نئی فضائی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کابل میں قائم طالبان حکومت اور بھارت کی مبینہ ملی بھگت سے جاری “پراکسی جنگ” کا نتیجہ ہیں۔
سکیورٹی صورتحال پر سخت مؤقف
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں پر شدید تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کابل حکومت کی جانب سے واضح اور قابلِ عمل امن کی ضمانت نہیں دی جاتی، پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر سرحد پار سے خطرات جاری رہے تو مؤثر جواب دیا جائے گا۔
پراکسی جنگ کا الزام
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والی بڑی شدت پسند کارروائیوں کے پیچھے بیرونی عناصر کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملے ایک منظم پراکسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت اور محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
سرحدی کشیدگی اور ممکنہ اثرات
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی معاملات پر کشیدگی پہلے ہی موجود ہے، اور کسی بھی نئی فضائی کارروائی سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ماضی میں بھی سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ دیکھا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم امن یکطرفہ طور پر قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے بقول، “اگر ہماری سرزمین پر حملے ہوں گے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔”
سفارتی اور عسکری آپشنز زیر غور
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان بیک وقت سفارتی اور سکیورٹی آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ ایک جانب کابل حکومت کے ساتھ رابطوں کے ذریعے سکیورٹی تعاون کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب انسداد دہشت گردی کے لیے عسکری تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے زمینی حقائق اور سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔