پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں سیکیورٹی اداروں کی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں سرحد پار روابط سے متعلق سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔ سرکاری و سیکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد حالیہ حملوں میں افغان سرزمین کے مبینہ استعمال اور افغان شہریوں کی شمولیت کے شواہد ملے ہیں۔
باجوڑ ملنگی پوسٹ حملہ: افغان شہری کی شناخت کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا ذمہ دار ایک افغان شہری قرار دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت خارجی احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ بلخ سے بتایا جاتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص ماضی میں افغان طالبان کی اسپیشل فورسز سے وابستہ رہا۔ اس حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں اور 2 شہریوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
اسلام آباد اور پشاور کے واقعات
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے حملے میں ملوث بمبار نے مبینہ طور پر افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ اسی طرح 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے بارے میں بھی افغان تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔
مزید برآں 24 نومبر کو پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں ملوث افراد کے بارے میں بھی سرحد پار روابط کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
دیگر اہم کیسز
سیکیورٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:
• ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں ملوث عناصر کا تعلق بھی افغانستان سے جوڑا گیا۔
• وانا کیڈٹ کالج حملے میں افغان شہریوں کی شمولیت کا دعویٰ کیا گیا۔
• 4 مارچ 2025 کو بنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
• 19 اکتوبر 2025 کو جنوبی وزیرستان سے گرفتار ہونے والا خودکش بمبار نعمت اللہ، افغان صوبہ قندھار کا رہائشی بتایا گیا۔
اسی طرح 11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس پر حملے کے سہولت کاروں کے بارے میں انکشاف کیا گیا کہ وہ افغانستان میں روپوش ایک شدت پسند کمانڈر سے رابطے میں تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے متعدد حملوں کے تانے بانے سرحد پار جا ملتے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین اور وہاں موجود وسائل کا مبینہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ان شواہد کو سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے، جبکہ سرحدی نگرانی اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
سفارتی اور علاقائی تناظر
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور شدت پسند تنظیموں کی موجودگی ایک عرصے سے حساس معاملہ رہا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین استعمال ہونے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ موجودہ دعوؤں کے بعد امکان ہے کہ یہ معاملہ دوبارہ سفارتی سطح پر زیر بحث آئے۔
نتیجہ
تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والے دعوے نہایت سنگین نوعیت کے ہیں، تاہم ان کی حتمی توثیق عدالتی کارروائی، بین الاقوامی تعاون اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ہی ممکن ہو گی۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی، مؤثر بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس تعاون ناگزیر ہے۔