اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی اور گیس کے ٹیرف نظام میں بڑی اور بنیادی تبدیلی لانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت اب صارفین سے بل وصولی صرف استعمال (یونٹس) کی بنیاد پر نہیں بلکہ گھریلو آمدن کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق نئے ماڈل کا مقصد سبسڈی کے نظام کو زیادہ منصفانہ، شفاف اور ہدفی بنانا ہے تاکہ مستحق طبقے کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے صارفین کو سبسڈی سے مرحلہ وار نکالا جا سکے۔
آمدن کی بنیاد پر نیا سلیب سسٹم
موجودہ نظام میں بجلی اور گیس کے بل مختلف سلیبز کے تحت یونٹس کے استعمال کے مطابق مقرر کیے جاتے ہیں۔ تاہم مجوزہ نظام میں درج ذیل اہم تبدیلیاں متوقع ہیں:
• گھریلو آمدن کی بنیاد پر صارفین کی درجہ بندی
• کم آمدن والے خاندانوں کو زیادہ سبسڈی
• متوسط طبقے کے لیے محدود ریلیف
• زیادہ آمدن والے صارفین کے لیے سبسڈی کا خاتمہ
• سبسڈی کے تعین کے لیے ڈیٹا بیس کی مدد
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر موجود مالیاتی اور سماجی ڈیٹا کو مربوط کیا جائے گا تاکہ مستحقین کی درست نشاندہی ممکن ہو سکے۔
عالمی مالیاتی ادارے سے وعدوں کی تکمیل
حکومت یہ اصلاحات International Monetary Fund کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور شرائط کی روشنی میں حتمی شکل دے رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے توانائی کے شعبے میں سبسڈی کو ہدفی بنانے اور گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اصلاحات پر زور دیا گیا تھا۔
حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام سے:
• گردشی قرضے میں کمی آئے گی
• مالیاتی خسارہ کم ہوگا
• توانائی کے شعبے میں شفافیت بڑھے گی
• غیر ضروری سبسڈی کا بوجھ کم ہوگا
بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل
اس سے قبل بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ وفاقی حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز کے ڈھانچے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے مجوزہ پیکج کے تحت:
• کم استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دیا جائے گا
• فکسڈ چارجز کو آمدن کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے
• کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے علیحدہ پالیسی زیر غور ہے
ممکنہ اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نظام شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو اس سے سماجی انصاف کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آمدن کی درست جانچ، ڈیٹا کی دستیابی اور رازداری کے مسائل چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔
صارفین کی جانب سے بھی اس مجوزہ نظام پر ملے جلے ردعمل کا امکان ہے، خصوصاً متوسط طبقہ اس تبدیلی سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
حکومت جلد اس پالیسی کا باقاعدہ مسودہ کابینہ میں پیش کرے گی، جس کے بعد مرحلہ وار نفاذ کا اعلان متوقع ہے۔ توانائی کے شعبے میں یہ اصلاحات آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اہم حصہ بن سکتی ہیں۔
مزید تفصیلات اور باضابطہ اعلان کے بعد ہی اس نظام کے مکمل خدوخال سامنے آئیں گے، تاہم واضح ہے کہ توانائی کے شعبے میں ایک بڑی ساختی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔