لاہور: پنجاب حکومت کی افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی، پیٹرول اور گاڑیوں کے استعمال میں بڑی تبدیلیاں

لاہور: پنجاب حکومت نے افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری کر دی ہے جس کے تحت مختلف گریڈز کے افسران کے لیے گاڑیوں اور پیٹرول کے استعمال کی حدوں میں نمایاں اضافہ اور تبدیلی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اعلیٰ افسران اب بڑی گاڑیوں اور لا محدود پیٹرول کے ساتھ سرکاری سفر کر سکیں گے۔

چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے لیے نئی سہولیات

نوٹیفکیشن کے مطابق:
• چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب تین سرکاری گاڑیاں استعمال کر سکیں گے
• گاڑیوں کی رینج: 2800، 1800 اور 4700 سی سی
• چیف سیکرٹری اور آئی جی کی دو گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 800 لیٹر پیٹرول ملے گا
• 4700 سی سی گاڑی کے لیے پیٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں

پرانے نظام کے تحت:
• چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو 1300 اور 1600 سی سی گاڑیاں رکھنے کی اجازت تھی
• دوگاڑیوں کے لیے پیٹرول کی حد 200 لیٹر ماہانہ تھی

گریڈ 20، 21، 22 افسران کے لیے نئی تفصیلات
• سیکریٹری 2800 اور 1800 سی سی گاڑیاں استعمال کر سکیں گے
• گریڈ 22 اور 21 کے افسران ذاتی استعمال کے لیے 200 لیٹر اور سرکاری استعمال کے لیے لا محدود پیٹرول حاصل کریں گے

پرانے نظام میں:
• انتظامی سیکرٹری 1300 سی سی گاڑی اور 200 لیٹر پیٹرول ہر ماہ استعمال کر سکتے تھے

گریڈ 19 اور 20 کے افسران کے لیے سہولیات
• اسپیشل سیکرٹری اور ڈی آئی جی 1600 سی سی گاڑی اور 250 لیٹر پیٹرول ہر ماہ
• ایڈیشنل سیکرٹری گریڈ 19: 1600 سی سی گاڑی اور 200 لیٹر پیٹرول ہر ماہ

پرانے نظام میں:
• یہ افسران 1000 سے 1300 سی سی گاڑی اور 175 لیٹر پیٹرول استعمال کرتے تھے

دیگر گریڈز کے افسران کی سہولیات
• گریڈ 18: ڈپٹی سیکرٹری 1500 سی سی گاڑی کے لیے 175 لیٹر پیٹرول ہر ماہ
• چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے اسٹاف افسر اور سیکشن افسر: 1300 سی سی گاڑی اور 150 لیٹر پیٹرول ہر ماہ
• وزرا کے اسٹاف افسر: 1300 سی سی گاڑی اور 125 لیٹر پیٹرول ہر ماہ

نوٹیفکیشن کا مقصد

سرکاری ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد افسران کے سرکاری سفر کو سہل اور مؤثر بنانا ہے، جبکہ گاڑیوں اور پیٹرول کے استعمال میں شفافیت اور مناسب حدوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مختلف افسران کے لیے گاڑیوں اور پیٹرول کے تعینات قواعد محدود تھے، جنہیں موجودہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اپڈیٹ کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے اعلیٰ افسران کی سرکاری کارکردگی میں بہتری آئے گی اور انتظامی امور میں آسانی پیدا ہوگی، تاہم عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

Related posts

بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالج تک رسائی دی جائے، علی امین گنڈاپور کا مطالبہ

عمران خان کی بیرون ملک یا بنی گالہ منتقلی کی کوئی بات نہیں ہوئی، خواجہ آصف

اسلام آباد میں ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ: نئی الیکٹرک بسوں، ڈپو اور چارجنگ سنٹر کا افتتاح