اسلام آباد: پاکستان میں حالیہ دہشتگردانہ حملوں کے پس منظر میں سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کچھ حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی گئی۔ ذرائع کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والا حملہ آور ایک خارجی افغان شہری تھا۔
خودکش حملہ آور کی شناخت
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق:
• احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا
• وہ طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہا
• باجوڑ حملے کے علاوہ دیگر دہشتگردانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا
یہ معلومات حکام نے دہشتگردانہ کارروائیوں کے تانے بانے سمجھنے کے لیے فراہم کی ہیں تاکہ سرحد پار کے خطرات کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
دہشتگردی کے سرحد پار تعلقات
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کا ایک واضح تانا بانا سرحد پار افغانستان سے جڑا ہوا ہے:
• 16 فروری کو باجوڑ میں حملہ آور افغان شہری نکلا
• 6 فروری کو اسلام آباد میں خودکش حملے والے بمبار نے بھی افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی
حکام نے بتایا کہ دہشتگردانہ حملوں کے لیے سرحد پار سے تربیت یافتہ افراد کی پاکستان میں آمد ایک تشویشناک رجحان ہے، جس سے سرحدی سکیورٹی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
حکومتی ردعمل اور حفاظتی اقدامات
سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستانی افواج اور انٹیلی جنس ادارے سرحدی نگرانی کو مضبوط بنا رہے ہیں اور دہشتگردانہ حملوں کے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشتگردانہ سرگرمیوں کا تعلق پاکستان میں استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے:
• سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے
• خفیہ معلومات کے تبادلے میں اضافہ کیا جائے
• سرحد پار دہشتگردانہ نیٹ ورکس کی نشاندہی اور روک تھام کی جائے
ممکنہ اثرات
اس نوعیت کی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بیرونی مداخلت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حکومت اور افواج دونوں اس خطرے کے خلاف مسلسل کوششیں کر رہی ہیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم رکھا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔