اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi نے دارالحکومت میں ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے نئی الیکٹرک بسوں، بس ڈپو اور جدید چارجنگ سنٹر کا افتتاح کر دیا۔ اس اقدام کے بعد اسلام آباد میں الیکٹرک بسوں کی مجموعی تعداد 160 تک پہنچ گئی ہے۔
افتتاح کے موقع پر وزیر داخلہ نے متعلقہ افسران کے ہمراہ الیکٹرک بس میں سفر بھی کیا اور منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی۔
یومیہ مسافروں کی تعداد بڑھانے کا ہدف
محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تقریباً 1 لاکھ 25 ہزار شہری روزانہ الیکٹرک بسوں میں سفر کر رہے ہیں، جبکہ مسافروں کی تعداد کو 2 لاکھ 50 ہزار یومیہ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات کے لیے خصوصی روٹس کا بھی خیال رکھا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں تک رسائی آسان ہو سکے۔
راولپنڈی اور راوت تک توسیع کا اعلان
وفاقی وزیر داخلہ نے الیکٹرک بس سروس کو راوت تک توسیع دینے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹرو بس کے ساتھ الیکٹرک بس سروس ٹریفک مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنڈی۔اسلام آباد ریلوے سروس کی بحالی پر بھی کام جاری ہے، جبکہ ایچ آئی ٹی پاکستان میں الیکٹرک بسوں کی مقامی تیاری شروع کرنے جا رہا ہے۔
جدید چارجنگ انفراسٹرکچر
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ:
• بس ڈپو میں 64 چارجرز لگانے کی گنجائش موجود ہے
• فی الحال 50 چارجرز نصب کیے جا چکے ہیں
• مزید 14 چارجرز جلد نصب کیے جائیں گے
• ایک چارجر دو گھنٹے میں دو بسیں چارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
حکام کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت 21 روٹس پر الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں اور منصوبے کو گوگل میپس کے ساتھ انٹیگریٹ کیا گیا ہے تاکہ شہری روٹس اور ٹائم ٹیبل سے باخبر رہ سکیں۔
ماحولیاتی اور شہری فوائد
ماہرین کے مطابق الیکٹرک بس سروس سے:
• فضائی آلودگی میں کمی آئے گی
• ایندھن کے اخراجات میں بچت ہوگی
• شہریوں کو آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت میسر آئے گی
افتتاحی تقریب میں چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
اسلام آباد میں الیکٹرک بسوں کا دائرہ کار بڑھانے کو شہری ٹرانسپورٹ کے نظام میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ماحول بلکہ ٹریفک کے دباؤ میں بھی نمایاں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔