اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع Khawaja Asif نے واضح کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف Imran Khan کو بیرون ملک یا بنی گالہ منتقل کرنے کے حوالے سے کسی سطح پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایسی تمام خبریں اور قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔
“ڈیل” کی افواہیں اور سیاسی بیانیہ
وزیر دفاع نے کہا کہ ممکن ہے سہولتوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کو اپروچ کیا گیا ہو، تاہم کسی قسم کی ڈیل پر بات نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ:
“مارکیٹ میں یہ پراڈکٹ رکھنے کے لیے ڈیل کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ اب اس پراڈکٹ کے پلے کچھ نہیں رہ گیا، ڈیل کی باتیں کرکے یہ اپنی دکان کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔”
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ ڈیل کی بازگشت دراصل سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔
“رہائی فورس” پر اعتراض
وزیر دفاع نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی نوکری خطرے میں ہے اور اسی لیے انہوں نے رہائی فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا:
• رہائی فورس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے
• وفاق کے سوا کوئی بھی فورس بنانے کا اختیار کسی کے پاس نہیں
• ایسے اقدامات ریاستی ڈھانچے کے خلاف تصور کیے جائیں گے
امریکا سے متعلق بیان
خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر Donald Trump نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تعریف کی ہے۔
ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک بین الاقوامی اجتماع میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فیلڈ مارشل کی قیادت کا اعتراف کیا۔
انہوں نے وزیراعظم کے حالیہ دورۂ امریکا کو پاکستان کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ سفارتی سطح پر اہم پیش رفت کا باعث بنا۔
غزہ سے متعلق مؤقف
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں فلسطینیوں کی بحالی اور آبادکاری کے حوالے سے اہم کمٹمنٹس کی گئی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ:
“ان شاء اللہ غزہ دوبارہ آباد ہوگا اور وہاں فلسطینی ہی آباد ہوں گے۔”
خواجہ آصف کے حالیہ بیانات نے ملکی سیاست، صوبائی اختیارات اور خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ڈیل سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر سیاسی منظرنامے کا حصہ بن گئی ہیں۔