اسلام آباد: علی امین گنڈاپور کا اہم بیان – عمران خان کو جیل سے نہ نکال پانے پر سخت تنقید

اسلام آباد میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواٰ علی امین گنڈاپور نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کی حکمتِ عملی پر کھل کر ردعمل دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مقبولیت اور عوامی سپورٹ کے باوجود عمران خان کو جیل سے آزاد نہ کر پانا ایک بڑی ناکامی ہے اور اس کا تعلق پارٹی کی اندرونی خامیوں، نیت کی کمزوری یا دوسروں کے استعمال ہونے سے ہے۔

گنڈاپور کا ردعمل اور پارٹیاندرونی صورتحال
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر پارٹی کے اندرونی معاملات ٹھیک ہوتے تو عمران خان ابھی جیل میں نہیں ہوتے۔ اُنہوں نے احتیاط سے کہا کہ ملک میں قانون اور آئین کا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے، لیکن ہماری غلطیاں بھی واضح ہیں۔ انہوں نے کہا:
• عوامی مقبولیت اور مضبوط سپورٹ کے باوجود جیل سے رہائی ممکن نہ ہو سکی۔
• پارٹی کی نادانی یا ٹھیک نیت نہ ہونے کی وجہ سے بار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گنڈاپور نے اس امر پر زور دیا کہ صرف میڈیا پر گفتگو اور روزمرہ سوشل میڈیا ویڈیوز بنانے سے پریشر نہیں بڑھے گا۔ اُن کا مؤقف تھا کہ ڈائیلاگ، ٹک ٹاک ویڈیوز اور دھمکیوں پر مبنی بیان بازی سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اصولی اور حقیقت پسندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

پریشر بڑھانے کی ضرورت
علی امین نے واضح کیا کہ وہ اپنی ذاتی ناخوشی کا اظہار نہیں کر رہے بلکہ اپنے قائد کے بارے میں غصہ محسوس کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ:
• پارٹی کو پریشر بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ سنگین مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔
• باتوں، دھمکیوں یا سیاسی ٹاک شوز سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، حقیقی جدوجہد ضروری ہے۔

عمران خان کو طبی رسائی نہ دلا پانا
گنڈاپور نے مزید کہا کہ ہم عمران خان کو ان کا حقِ طبی رسائی بھی نہیں دلا پا رہے، خاص طور پر اس صورتحال میں جب اُن کی صحت کے حوالے سے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ خود کسی سرکاری یا پارٹی عہدے پر موجود نہیں ہیں اور ایک “ورکر” کے طور پر بات کر رہے ہیں۔

احتجاج اور ریلیوں کا ذکر
سابق وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ جب احتجاج اور ریلیوں کی کال دی گئی، تو وہ خود دو بار سب سے بڑی ریلی لے کر آئے تھے، جس سے ان کے سیاسی عزم کا اندازہ ہوتا ہے۔

پس منظر: عمران خان گزشتہ عرصے سے مختلف مقدمات میں عدالتی پیچ و خم اور قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں کرپشن اور دیگر الزامات شامل ہیں۔ ان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے جس پر سپریم کورٹ نے طبی جائزے کا حکم دیا ہے، اور پارٹی رہنما ان کے طبی معائنے اور خصوصی علاج کی حمایت کر رہے ہیں۔

Related posts

پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ

لاہور: قبضہ مافیا کے خلاف سخت شکنجہ — پنجاب حکومت نے ترمیمی آرڈیننس 2026 اسمبلی میں پیش کر دیا

وفاقی وزراء کی مشترکہ ملاقات: دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام پر اتفاق