لاہور: پنجاب حکومت نے غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں پر مشتمل Punjab Protection of Ownership of Immovable Property (Amendment) Ordinance 2026 دوبارہ متعارف کرا دیا ہے۔ محکمہ قانون نے ترمیمی آرڈیننس کو Punjab Assembly بھجوا دیا ہے، جس کا مقصد قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی یقینی بنانا اور اصل مالکان کو بروقت ریلیف فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔
غیر قانونی قبضہ قابلِ سزا جرم قرار
ترمیمی آرڈیننس کے تحت غیر قانونی قبضہ اب واضح طور پر قابلِ سزا جرم ہوگا، جس پر پانچ سے دس سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ جعلسازی، دھوکہ دہی، جبر یا طاقت کے ذریعے قبضہ بھی جرم تصور ہوگا۔
قبضے میں معاونت، سہولت کاری یا سازش پر ایک سے تین سال قید جبکہ دس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
ملزم کی تعریف میں توسیع
آرڈیننس میں “ملزم” کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے کمپنی، ادارہ، ٹرسٹ، سوسائٹی اور دیگر قانونی اداروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کے ذمہ دار افسران، ڈائریکٹرز، پارٹنرز اور بینیفشل اونرز بھی قانون کے دائرے میں آئیں گے۔
ہر ضلع میں پراپرٹی ٹریبونل کا قیام
قانون کے تحت ہر ضلع میں پنجاب پراپرٹی ٹریبونل قائم کیا جائے گا، جہاں ایڈیشنل سیشن جج کو بطور پریزائیڈنگ آفیسر مقرر کیا جائے گا۔
• ٹریبونل کو عبوری احکامات جاری کرنے، جائیداد سیل کرنے یا ضمانت لینے کا اختیار ہوگا۔
• جائیداد کی ملکیت کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار بھی ٹریبونل کو دیا گیا ہے۔
• ٹریبونل مقدمات کا فیصلہ 30 دن کے اندر کرنے کا پابند ہوگا اور سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی؛ سات دن سے زائد التوا نہیں دیا جائے گا۔
ٹریبونل کے حتمی فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر Lahore High Court میں اپیل دائر کی جا سکے گی، تاہم عبوری احکامات کے خلاف اپیل یا نظرثانی کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسکروٹنی کمیٹی کا نیا نظام
“ڈسپیوٹ ریزولوشن” کی جگہ “اسکروٹنی” کی اصطلاح شامل کی گئی ہے۔ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں اسکروٹنی کمیٹی قائم ہوگی جس میں ڈی پی او، اے ڈی سی ریونیو، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران شامل ہوں گے۔
• شکایت موصول ہونے کے تین دن کے اندر معاملہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔
• کمیٹی 30 دن میں رپورٹ ٹریبونل کو پیش کرے گی۔
• فریقین کو طلب کر کے ریکارڈ کی جانچ اور بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔
• مصالحت کی صورت میں تحریری معاہدہ ٹریبونل کی منظوری کے لیے پیش ہوگا۔
شکایت کا طریقہ کار
مالک براہ راست متعلقہ ٹریبونل میں شکایت دائر کر سکے گا، جس میں:
• ملکیت کا ثبوت
• جائیداد کی مکمل تفصیل
• ملزم کی معلومات
فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ شکایت دائر ہونے کے بعد جائیداد کی خرید و فروخت، منتقلی، الاٹمنٹ، گفٹ یا لیز کالعدم تصور ہوگی۔
ہرجانہ اور فوری قبضہ واگزاری
• ٹریبونل غیر قانونی قبضے پر جائیداد کی مالیت کے برابر کم از کم ہرجانہ مقرر کر سکے گا۔
• ناجائز منافع یا تعمیرات کا فائدہ بھی قانونی مالک کو دلایا جا سکے گا۔
• ہرجانہ اور اخراجات لینڈ ریونیو بقایا جات کے طور پر وصول کیے جائیں گے۔
• کارروائی مکمل ہونے پر قانونی مالک کو فوری قبضہ دلانے کا حکم دیا جائے گا اور پولیس و دیگر ادارے معاونت کے پابند ہوں گے۔
گرفتاری اور ضمانت
ٹریبونل کو ملزم کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہوگا جبکہ گرفتاری کے بعد ضمانت کا اختیار صرف لاہور ہائی کورٹ کو ہوگا۔
جھوٹی شکایت پر سزا
بدنیتی پر مبنی یا جھوٹی شکایت دینے والے کو ایک سے پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
قانون کا مقصد
پنجاب حکومت کے مطابق ترامیم کا بنیادی مقصد قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی، شفاف اور تیز رفتار نظام انصاف کا قیام اور اصل مالکان کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ بعض سابقہ دفعات ختم کر کے قانون کو مزید مؤثر اور جامع بنایا گیا ہے، جبکہ نیک نیتی سے کام کرنے والے سرکاری افسران کو قانونی تحفظ بھی دیا گیا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس آرڈیننس پر قانونی ماہرین کا تجزیہ، اپوزیشن کا ردعمل اور ممکنہ عملی اثرات پر مشتمل ایک الگ تجزیاتی رپورٹ بھی تیار کر سکتا ہوں۔