اسلام آباد: پاکستان نے طرزِ حکمرانی اور احتساب کے نظام میں بہتری کے لیے ایک جامع ایکشن پلان عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ منصوبے کے تحت قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی، اعلیٰ سطحی وفاقی افسران کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی 2026 میں اشاعت، اور اثاثوں کی رسک بیسڈ ویریفکیشن کا نظام متعارف کرانے جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔
آئی ایم ایف مشن کا دورہ
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس دورے میں گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹکس (GCD) اسسمنٹ رپورٹ کے تناظر میں پاکستان کی پیش رفت خصوصی توجہ کا مرکز ہوگی۔
نیب چیئرمین کی تقرری پر نظرِ ثانی
حکومت نے National Accountability Bureau (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار کا باضابطہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی اور ضرورت پڑنے پر قانونی و انتظامی تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ادارے کی ساکھ اور شفافیت میں اضافہ ہو۔ اقدامات 27 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی میں تقرریوں کا نیا فریم ورک
Securities and Exchange Commission of Pakistan (ایس ای سی پی) کے چیئرمین کی براہِ راست تقرری کے عمل کو مجوزہ ترمیمی بل کے ذریعے ضابطہ بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ایک سلیکشن کمیٹی ممکنہ امیدواروں کی نشاندہی اور سفارش کرے گی جبکہ وفاقی حکومت قواعد کو باضابطہ شکل دے گی۔
نوٹیفکیشن میں چیئرمین، کمشنرز اور پالیسی بورڈ ممبران کی تقرری کا مکمل طریقہ کار شامل ہوگا، جس کے مطابق مدت مکمل ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل نئے تقرری عمل کا آغاز لازمی ہوگا۔ مزید برآں، ایس ای سی پی پالیسی بورڈ سے منظور شدہ سالانہ گورننس و شفافیت رپورٹ کی اشاعت بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ ریگولیٹری استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو۔
مسابقتی کمیشن میں اصلاحات
Competition Commission of Pakistan (سی سی پی) کے قانونی فریم ورک کو بھی مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 میں ترمیم کے ذریعے چیئرپرسن کی علیحدہ اور خودمختار تقرری ممکن بنائی جائے گی۔
سی سی پی کے قواعد کے نوٹیفکیشن میں چیئرمین اور ممبران کی تقرری کا واضح طریقہ کار، مدت ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل عمل کے آغاز، اور سالانہ گورننس رپورٹ کی اشاعت شامل ہوگی۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے اجناس کی منڈیوں سمیت مختلف شعبوں میں مسابقت کو فروغ ملے گا۔
اثاثہ جات کی اشاعت اور رسک بیسڈ ویریفکیشن
حکومت نے اعلیٰ سطحی وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشوارے 2026 میں شائع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اثاثوں کی رسک بیسڈ ویریفکیشن کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ مشکوک اثاثوں کی مؤثر جانچ ممکن ہو سکے اور بدعنوانی کے خدشات کم کیے جا سکیں۔
اصلاحات کا مقصد
حکومتی ذرائع کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد میرٹ پر مبنی تقرریوں کو فروغ دینا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور اہم ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری کو مضبوط بنانا ہے۔ توقع ہے کہ 27 جون تک ان اقدامات کی تکمیل سے گورننس کے نظام میں بہتری آئے گی، فیصلہ سازی میں تسلسل بڑھے گا اور عالمی سطح پر پاکستان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔