اسلام آباد / ریاض / انقرہ:
پاکستان، سعودی عرب، ترکیے، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا گیا جس میں علاقائی امن و استحکام پر ممکنہ منفی اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی۔
مشترکہ مذمتی بیان
مشترکہ اعلامیہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عرب لیگ اور خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) کے پلیٹ فارم سے جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کا بیان بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور یہ فلسطین تنازع کے حل کی جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے وژن سے تضاد
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی سفیر کا مؤقف سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مشرقِ وسطیٰ امن وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے براہِ راست متصادم ہے۔ مسلم ممالک نے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔
متنازع بیان کیا تھا؟
واضح رہے کہ مائیک ہکابی نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے کا حق حاصل ہے اور اگر اسرائیل دریائے نیل سے نہرِ فرات تک کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو یہ درست ہوگا۔
یہ تصور دراصل ایک شدت پسند نظریے “گریٹر اسرائیل” سے منسوب کیا جاتا ہے، جس کے مطابق ایک وسیع جغرافیائی خطہ لبنان سے لے کر سعودی عرب کے صحراؤں تک اور بحیرہ روم سے عراق میں دریائے فرات تک پھیلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نظریہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
فلسطینی اور عرب اراضی پر مؤقف
مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی اور دیگر عرب زمینوں پر کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ سفارتی اقدامات کرے۔
علاقائی ردعمل اور سفارتی تناظر
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان نے پہلے سے کشیدہ علاقائی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ مسلم دنیا کی جانب سے اجتماعی ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب بھی امتِ مسلمہ کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام یا بیان کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قانون، خودمختاری کے احترام اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر پیش رفت ناگزیر ہے۔