خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں سیکیورٹی صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب نامعلوم مسلح افراد نے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے قلعہ پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کردیا۔ ابتدائی حملے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے، تاہم زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس کو بھی راستے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 زخمی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ ریسکیو کے 2 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
کواڈ کاپٹر سے حملہ
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کرک کے مطابق درگہ شہیدان کے علاقے میں قائم ایف سی کے قلعہ پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے دھماکا خیز مواد گرایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 5 اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور قلعے کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔
ایمبولینس پر فائرنگ
پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس پر بہادر خیل کے مقام پر گھات لگا کر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایمبولینس میں موجود 3 زخمی فیڈرل کانسٹیبلری اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ریسکیو کے 2 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
سرچ آپریشن شروع
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں جبکہ مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہیں، جس میں کواڈ کاپٹر کے استعمال سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی صورتحال پر تشویش
حالیہ واقعہ صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حملوں کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جس کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی درکار ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔