اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں کی گئی حالیہ کارروائی سے متعلق حکومت کا تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب “صرف جنازے نہیں اٹھائے گا بلکہ بھرپور جواب دے گا، ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔”
افغانستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق
سینیٹ سے خطاب میں وزیر مملکت نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور مخصوص دہشت گرد ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا افغان حکام کو سرحد پار سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی سے آگاہ کرتا رہا، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے پر پاکستان کو اپنے دفاع میں اقدام کرنا پڑا۔
دہشت گرد پناہ گاہوں کا الزام
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں موجود ہیں، جہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ انہوں نے ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہونے والے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی جانب سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ بعض عناصر کو سرحد سے دور رکھنے کے لیے پاکستان مالی معاونت فراہم کرے۔ ان کے بقول پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے بدلے واضح ضمانت درکار ہے کہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی۔
“امن چاہتے ہیں مگر سلامتی پر سمجھوتہ نہیں”
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔
ان کے مطابق حالیہ فضائی کارروائیوں میں تقریباً 100 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسٹرائیکس ہدفی اور انٹیلی جنس بیسڈ تھیں۔
پس منظر
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں کالعدم تنظیموں کے مراکز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی سرحد پار سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں کی گئی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا تھا اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت کیا گیا.