اسلام آباد: بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ممکنہ اسپتال منتقلی اور ذاتی معالجین تک رسائی سے متعلق اہم اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن سے پارٹی کے اندر پائے جانے والے اختلافات اور حکومتی رابطوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ڈاکٹروں کے نام پر اختلاف
پارٹی ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 فروری کو علیمہ خان سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ دو مستند ڈاکٹروں کے نام فراہم کیے جائیں تاکہ انہیں جیل بھیج کر بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرایا جا سکے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے ڈاکٹروں کو جیل بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کی اور اس کے بجائے عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے پر زور دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مکمل طبی سہولیات کے لیے جیل کے بجائے اسپتال کا ماحول زیادہ موزوں ہے۔
حکومت کی آمادگی اور نیا موڑ
ذرائع کے مطابق بعد ازاں ایک اور رابطے میں بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کو آگاہ کیا کہ حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر آمادہ ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پارٹی کے اندر مشاورت کا عمل تیز ہو گیا۔
تاہم اسپتال منتقلی کے طریقہ کار اور معالجین کے انتخاب پر اختلاف سامنے آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے عمران خان کی ممکنہ اسپتال منتقلی کے لیے قاسم زمان کے نام پر اعتراض کیا اور مسلسل ڈاکٹر نوشیروان برکی کے نام پر اصرار کرتی رہیں۔
اس معاملے پر ایک اہم کانفرنس کال بھی کی گئی جس میں پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین شریک ہوئے اور مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی کا مؤقف
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اس بات پر متفق تھی کہ علیمہ خان کے سخت مؤقف اور طرزِ عمل کے باعث معاملہ تعطل کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی اسپتال منتقلی فوری طور پر ممکن نہ ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض رہنماؤں کی رائے تھی کہ پہلے مرحلے میں جیل کے اندر طبی معائنہ کرایا جاتا اور بعد ازاں ضرورت پڑنے پر اسپتال منتقل کیا جاتا، تاہم اس حکمتِ عملی پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔
حکومتی و سیاسی رابطے
دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی مسلسل پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں رہے۔
اسی طرح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی عمران خان کے علاج سے متعلق معاملات میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رابطے جاری رکھے۔
مجموعی صورتحال
سیاسی حلقوں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال، ان کی اسپتال منتقلی اور معالجین کے انتخاب کا معاملہ نہ صرف طبی بلکہ سیاسی نوعیت بھی اختیار کر چکا ہے۔ پارٹی کے اندر مختلف آرا اور حکومتی سطح پر جاری رابطوں کے باعث یہ معاملہ آئندہ دنوں میں مزید اہم پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اندرونی مشاورت کے ذریعے متفقہ حکمت عملی طے پا گئی تو عمران خان کی طبی سہولیات سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ جلد سامنے آ سکتا ہے۔