لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم اور غیر اخلاقی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے پیچھے “فتنہ پارٹی” کی سوشل میڈیا برگیڈ اور بعض نام نہاد یوٹیوبرز کارفرما ہیں۔
“نام نہاد بھگوڑے یوٹیوبرز اور کچھ صحافی ملوث”
اپنے ویڈیو بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے یوٹیوبرز اور افراد، جو خود کو صحافی ظاہر کرتے ہیں، اس مہم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صحافی برادری کے بعض حلقے انہیں صحافی تسلیم بھی کرتے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان افراد کے خلاف کارروائی کی بات کی جاتی ہے تو اسے سیاسی انتقام کا رنگ دے دیا جاتا ہے اور آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغن کا بیانیہ گھڑ لیا جاتا ہے۔
“جہاز کے معاملے کو بنیاد بنا کر مہم”
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف “جہاز” کے معاملے کو جواز بنا کر گھٹیا مہم چلائی گئی۔ ان کے مطابق اس موضوع پر ڈیڑھ سو سے زائد وی لاگز بنائے گئے اور مختلف ٹی وی چینلز پر سو کے قریب پروگرام نشر کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ منظم مہم 2014 سے مختلف ادوار میں جاری ہے، تاہم اس کا مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔
“سیاسی رہنما ہیں، ذاتیات پر نہیں جائیں گے”
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس بھی بہت سی معلومات موجود ہیں لیکن وہ سیاسی رہنما ہیں اور سیاسی موضوعات تک محدود رہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی مہمات عوامی خدمت کرنے والی قیادت کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
فلاحی منصوبوں کا حوالہ
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں:
• رمضان پیکج
• الیکٹرک بسوں کا اجرا
• آسان کاروبار قرضہ اسکیم
• دہی رانی پروگرام
• ستھرا پنجاب مہم کے تحت روزگار کے مواقع
• اپنی چھت اپنا گھر منصوبہ
• سیلاب متاثرین کے لیے 200 ارب روپے کا پیکج
• بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے کی امداد
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے حل پر مرکوز ہے اور منفی پروپیگنڈا ترقیاتی عمل کو نہیں روک سکتا۔
عوام سے اپیل
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر اخلاقی اور بے بنیاد مہمات سے متاثر نہ ہوں اور مصدقہ معلومات پر یقین رکھیں۔ ان کے مطابق حالیہ سوشل میڈیا مہم نے خود سوشل میڈیا کے بعض عناصر کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ حکومت اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، تاہم اس آزادی کو کردار کشی یا منظم جھوٹ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔