پی ٹی آئی کے تمام دھڑوں میں اختلافات مگر ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ عمران خان اندر رہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے مختلف گروپوں میں بے شمار اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم ایک معاملے پر مکمل اتفاق ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہی رہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے “رہائی فورس” بنانے کی بات کرتی ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہیں کرتی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے پی حکومت شہدا کے جنازوں میں شرکت سے بھی گریز کرتی ہے، جبکہ صوبے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے واقعات تسلسل کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔

“بانی پی ٹی آئی ہی اولین ترجیح”

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ روزانہ پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں، بعض واقعات میں اہلکاروں کو زندہ جلانے جیسے اندوہناک واقعات بھی سامنے آئے، مگر اس کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت کی اولین اور آخری ترجیح صرف عمران خان کی رہائی ہے۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “باقی سب بے معنی اور بے وقعت ہے” اور قومی سلامتی کے معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

“وزارت اعلیٰ بچاؤ، صوبہ جائے بھاڑ میں”

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اصل ترجیح وزارت اعلیٰ کو بچانا ہے، جبکہ صوبے اور وطن کی سلامتی کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ایک دوسرے پر الزامات اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

“سیاسی جماعت یا دھڑوں کا مجموعہ؟”

وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسی سیاسی جماعت ہے جس کے کتنے دھڑے اور ٹکڑے ہیں، اس کا کسی کو اندازہ نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات موجود ہیں لیکن ایک نکتے پر سب متفق ہیں کہ عمران خان جیل سے باہر نہ آئیں۔

سیاسی ردعمل متوقع

سیاسی مبصرین کے مطابق خواجہ آصف کے بیان پر پی ٹی آئی کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماضی میں بھی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان بیاناتی جنگ جاری رہی ہے، جو ملکی سیاست میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔

فی الحال پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related posts

پاک فضائیہ کی کارروائی: ننگرہار میں مبینہ ایمونیشن ڈیپو تباہ، سرحدی کشیدگی میں اضافہ

وزارتِ اطلاعات کا بیان: پاک–افغان سرحد پر کشیدگی، پاکستان کا “آپریشن غضب للحق” شروع

پاک–افغان سرحد پر کشیدگی، پاکستان کا آپریشن “غضب للحق” شروع