کراچی: حکومتِ سندھ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ائیرپورٹ کے پک اینڈ ڈراپ ایریا میں دو سے زائد افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئے فیصلے کے تحت مسافروں کو چھوڑنے یا لینے کے لیے ایک سے دو افراد کو ہی آنے کی اجازت ہوگی۔
سکیورٹی تھریٹس پر اعلیٰ سطحی اجلاس
یہ فیصلہ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں سکیورٹی تھریٹس اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ افسران نے تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ماضی کے واقعات اور حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں اور سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
ائیرپورٹ پر رش کم کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زیادہ رش سکیورٹی کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔ اسی تناظر میں پک اینڈ ڈراپ ایریا میں افراد کی تعداد محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ غیر ضروری ہجوم کو روکا جا سکے اور سکیورٹی اداروں کو مؤثر نگرانی میں آسانی ہو۔
وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ جائے حادثہ پر فوری ردعمل کے لیے جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) تیار کیے جائیں اور کوئیک رسپانس میکانزم کو مزید فعال بنایا جائے۔
سکیورٹی اداروں میں رابطوں کی بہتری
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پولیس کو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشترکہ اور بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ:
• سندھ کی تمام جیلوں میں “تلاش ایپ” ڈیوائس کی دستیابی یقینی بنائی جائے
• صوبے کے داخلی و خارجی پوائنٹس پر لیڈی سرچر کی تعیناتی لازمی قرار دی جائے
• اہم اور حساس تنصیبات کا جامع سکیورٹی آڈٹ کیا جائے
اسلحے کی نمائش پر کریک ڈاؤن
وزیر داخلہ نے اسلحے کی نمائش کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کی ہدایت بھی جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
عوام سے تعاون کی اپیل
صوبائی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ائیرپورٹ پر غیر ضروری ہجوم سے گریز کریں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔