اسلام آباد/خیبر پختونخوا: پاک–افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے “آپریشن غضب للحق” کے نام سے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ اقدام سرحدی علاقوں میں مبینہ بلااشتعال فائرنگ اور ڈرون حملوں کی کوششوں کے ردِعمل میں کیا گیا۔
سرحدی سیکٹرز میں شدید جھڑپیں
ذرائع کے مطابق افغان جانب سے سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی گئی، جس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا۔ کارروائی خاص طور پر ناوگئی سیکٹر، باجوڑ، تیراہ، خیبر اور چترال سیکٹر میں کی گئی، جہاں مبینہ طور پر متعدد ٹھکانوں اور چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ:
• باجوڑ کے علاقے میں دو چوکیاں تباہ کی گئیں۔
• چترال سیکٹر میں ایک سرحدی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
• جھڑپوں کے نتیجے میں مخالف جانب کو جانی نقصان پہنچا، تاہم آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کواڈ کاپٹر حملوں کی ناکام کوشش
ذرائع کے مطابق افغان جانب سے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام ڈرونز کو مار گرایا گیا اور بعد ازاں چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی جوابی کارروائی جاری رکھی گئی۔
سوشل میڈیا پر دعوؤں کی جنگ
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز اور دعوے گردش کر رہے ہیں، جنہیں حکام نے “گمراہ کن اور غیر مصدقہ” قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق سرحدی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
سرحدی سلامتی اور علاقائی تناظر
پاک–افغان سرحد، خصوصاً خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع، ماضی میں بھی کشیدگی کا مرکز رہے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق سرحدی نگرانی، ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔