پاک فضائیہ کی کارروائی: ننگرہار میں مبینہ ایمونیشن ڈیپو تباہ، سرحدی کشیدگی میں اضافہ

اسلام آباد/کابل: سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک بڑے مبینہ ایمونیشن ڈیپو کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مزید اہداف پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

آپریشن “غضب للحق” کا تسلسل

یہ کارروائی پاک–افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، جہاں پاکستان پہلے ہی “آپریشن غضب للحق” شروع کر چکا ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق سرحد پار سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ اور حملوں کے جواب میں زمینی و فضائی سطح پر کارروائیاں جاری ہیں۔

کرم سیکٹر میں جھڑپیں

ذرائع کے مطابق کرم سیکٹر کے قریب بھی متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مزید آٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اب تک تقریباً 44 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی باضابطہ اور غیر جانب دار تصدیق نہیں ہو سکی۔

سرحدی صورتحال اور حکومتی مؤقف

حکومتی مؤقف ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور کسی بھی مزید جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔

علاقائی اثرات

ماہرین کے مطابق فضائی کارروائیوں سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے سفارتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی رابطہ میکانزم کو فعال کرنا اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

Related posts

وزارتِ اطلاعات کا بیان: پاک–افغان سرحد پر کشیدگی، پاکستان کا “آپریشن غضب للحق” شروع

پاک–افغان سرحد پر کشیدگی، پاکستان کا آپریشن “غضب للحق” شروع

آئی ایم ایف کو یو اے ای کے 2 ارب ڈالر رول اوور میں تاخیر پر تشویش، حکومت کا مسئلہ نہ ہونے کا دعوی