صیہونیت انسانیت کے لیے سنگین خطرہ ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: خواجہ محمد آصف نے صیہونیت کو انسانیت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور اس کا اصل ایجنڈا اسرائیلی اثرورسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک لانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قوم کو بدلتے ہوئے علاقائی حالات اور ممکنہ سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔

وزیر دفاع نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے قیام کے بعد سے اسلامی دنیا کو درپیش متعدد بحرانوں کے پیچھے صیہونی نظریہ کارفرما رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونیت ایک صدی سے عالمی معاشی نظام پر اثرانداز ہو رہی ہے اور بڑی طاقتیں بھی اس کے زیر اثر دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطے عدم استحکام کا شکار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن سے جڑا معاملہ ہے۔ ان کے بقول بعض قوتیں خطے میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں جس سے پاکستان کو اسٹریٹیجک دباؤ میں لایا جا سکے۔ خواجہ آصف نے عندیہ دیا کہ افغانستان، اسرائیل اور بھارت کے مفادات کسی مرحلے پر پاکستان مخالف ایجنڈے میں یکجا ہو سکتے ہیں، اس لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔

وزیر دفاع نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان نے اپنی خودمختاری اور دفاع کے عزم کا واضح پیغام دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر ممکن دفاعی تیاری برقرار رکھی جائے گی۔

خطاب کے دوران انہوں نے اسلامی دنیا میں اتحاد اور باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

آخر میں وزیر دفاع نے دعا کی کہ فلسطین کو آزادی نصیب ہو اور پاکستان ہر اندرونی و بیرونی خطرے سے محفوظ رہے۔

Related posts

کراچی میں قائم یوایس قونصلیٹ جنرل کراچی پر دھاوا بولنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تعینات اہلکاروں نے فائرنگ کی

اسلام آباد: تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے پر وزیراعظم کی ہنگامی کمیٹی قائم

پاکستان بھر میں ڈرون اُڑانے پر پابندی — سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سخت اقدامات