جدہ: سعودی عرب نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ وہ حالیہ حملوں کے بعد ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ اعلان منگل کی شب ہونے والے سعودی کابینہ کے اہم اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، علاقائی و بین الاقوامی استحکام پر اس کے اثرات اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ایرانی جارحیت پر سخت مؤقف
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی کابینہ نے حالیہ حملوں کو “بزدلانہ کارروائیاں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق رکھتی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
خطے کی صورتحال کا جائزہ
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، سمندری گزرگاہوں کی سکیورٹی، توانائی تنصیبات کے تحفظ اور عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ دفاعی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنائیں۔
خلیجی شہریوں کے لیے اقدامات
کابینہ اجلاس میں سعودی ائیرپورٹس پر پھنسے خلیجی ممالک کے شہریوں کے لیے کیے گئے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق مسافروں کی رہائش، خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سہولت فراہم کی جا سکے۔
انسدادِ بدعنوانی تعاون کی منظوری
اجلاس میں انسدادِ بدعنوانی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ سعودی کابینہ نے Oversight and Anti-Corruption Authority (Nazaha) اور پاکستان کے احتساب ادارے National Accountability Bureau کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) کی منظوری دے دی۔
ان معاہدوں کا مقصد بدعنوانی کی روک تھام، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری لانا بتایا گیا ہے۔
علاقائی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی کابینہ کا سخت مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات توانائی منڈی، سفارتی تعلقات اور علاقائی سکیورٹی پر مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم سعودی عرب نے بیک وقت دفاعی تیاری اور انسانی و سفارتی پہلوؤں پر توجہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔