اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات Attaullah Tarar نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن “غضب للحق” کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق یہ کارروائیاں سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں کی گئیں، جن کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن ردعمل تھا۔
جانی نقصانات کی تفصیل
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی کارروائیوں میں Afghan Taliban کے 481 کارندے ہلاک جبکہ 696 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
عسکری تنصیبات اور سازوسامان کو نقصان
وزیر اطلاعات کے مطابق:
• افغان طالبان رجیم کی 226 چیک پوسٹس تباہ کی گئیں
• 35 چیک پوسٹس پر قبضہ کیا گیا
• 198 ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی گئیں
• 56 مختلف مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں محدود، ہدفی اور دفاعی نوعیت کی تھیں۔
بگرام ایئربیس پر حملے کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی اخبار The New York Times نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے دوران پاکستان نے افغانستان کے اہم ترین فوجی اڈے Bagram Airbase کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق:
• ایئربیس کا ایک ایئرکرافٹ ہینگر تباہ ہوا
• دو ویئر ہاؤسز کو نقصان پہنچا
• سیٹلائٹ تصاویر میں تباہی کے آثار دکھائی دیے
تاہم اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Pakistan اور Afghanistan کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے معاملات پر تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال میں مزید شدت آئی تو اس کے خطے کی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سرکاری مؤقف
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو خطے کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
اہم نکات
• افغان طالبان کے 481 اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ
• 226 چیک پوسٹس تباہ، 35 پر قبضہ
• 198 فوجی گاڑیاں اور اسلحہ تباہ
• بگرام ایئربیس کو نشانہ بنانے کا بین الاقوامی دعویٰ
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید سفارتی اور عسکری پیش رفت متوقع ہے۔