اسلام آباد: عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی کے تناظر میں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ توانائی نے اس حوالے سے مختلف تجاویز پر مشتمل تفصیلی ورکنگ تیار کر کے وزیراعظم کو بریفنگ دے دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد مقرر کرنے کے موجودہ طریقہ کار کو تبدیل کر کے ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں کا تعین کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق مقامی قیمتوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے ایڈجسٹ کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ زیادہ قریبی ہم آہنگی میں رہیں گی۔ اس سے ایک طرف قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے یا کمی کے اثرات کو مرحلہ وار تقسیم کیا جا سکے گا جبکہ دوسری جانب مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بھی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم جلد معاشی ٹیم کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد اس حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات مزید سنگین ہوتے ہیں اور تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے تو حکومت اس تجویز پر جلد عملدرآمد کا اعلان بھی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے بھی نگرانی کا نظام سخت کر دیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ کسی بھی مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں حکومت کی ترجیح ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمتوں کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے تو اس سے عالمی مارکیٹ کے اثرات تیزی سے مقامی سطح پر منتقل ہوں گے، تاہم اس کے ساتھ صارفین کو قیمتوں میں نسبتاً زیادہ بار بار تبدیلی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی سطح پر جاری جیوپولیٹیکل کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جس کے اثرات دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔