لاہور: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے سیٹ اپ میں فوری طور پر بڑی تبدیلیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیم انتظامیہ اور قیادت کو برقرار رکھنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے تاکہ پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ نے ماضی کی روایت سے ہٹ کر شکست کے بعد اچانک اکھاڑ پچھاڑ سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت مختلف فارمیٹس میں موجود کپتانوں اور کوچنگ اسٹاف کو اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق محدود اوورز کے فارمیٹس میں ہیڈ کوچ مائیک ہیسن معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے عہدوں پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی کی نئی حکمت عملی کے تحت شکست کے بعد فوری ردعمل کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی پر توجہ دی جارہی ہے۔ بورڈ حکام کا مؤقف ہے کہ بار بار تبدیلیاں ٹیم کے استحکام کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے موجودہ سیٹ اپ کو مزید موقع دیا جائے گا۔
دوسری جانب سلیکشن کمیٹی کے رکن علیم ڈار کا استعفیٰ منظور کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق علیم ڈار نے ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدہ چھوڑنے کی درخواست کی تھی جسے بورڈ کی جانب سے قبول کرلیا گیا ہے۔
ٹیسٹ ٹیم کے کوچنگ سیٹ اپ میں بھی اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اظہر محمود کے استعفے کے بعد خالی ہونے والی اسامی پر سابق قومی کپتان سرفراز احمد کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرفراز احمد ابوظبی سے واپسی کے بعد باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس کے علاوہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر عاقب جاوید اور سلیکشن کمیٹی کو بھی اپنے عہدوں پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آنے والے عرصے میں ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر کام کر رہا ہے تاکہ قومی ٹیم کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جاسکے۔